خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 510
510 خطبہ جمعہ 06 /اکتوبر 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم ہیں۔جس دن اللہ نبی کو اور اُن کو رسوا نہیں کرے گا جو اس کے ساتھ ایمان لائے۔ان کا نور ان کے آگے بھی تیزی سے چلے گا اور ان کے دائیں بھی۔پھر آگے وہ وہی کہیں گے جو دعامیں نے پڑھی ہے۔تو اپنی برائیوں کے دور کرنے کے لئے دعا کرتے رہنا چاہئے۔اور برائیوں کو دور کرنے کی کوشش بھی ہورہی ہو اور دعا بھی ہورہی ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے خالص تو بہ کرنے والوں کی دعا کو بھی سنتا ہے اور ان کی برائیاں دور کرتے ہوئے جیسا کہ اس نے فرمایا انہیں جنتوں میں داخل کرتا ہے اور انہیں ایسا نور دیتا ہے جو ان کے دائیں بھی چلتا ہے اور ان کے آگے بھی چلتا ہے۔پس خوش قسمت ہوں گے ہم اگر اللہ تعالیٰ کے اس وعدے سے فائدہ اٹھائیں۔خوش قسمتی سے ہمیں رمضان میں سے گزرنے کا موقع مل رہا ہے اس رمضان کے مہینے میں روزوں سے گزرنے کا موقع مل رہا ہے، جب مغفرت کے دروازے مکمل طور پر کھول دیئے جاتے ہیں، بخشش کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اپنی برائیوں پر نظر کرتے ہوئے انہیں چھوڑنے کی کوشش کریں۔سچی توبہ کریں کہ آئندہ بھی ان برائیوں میں نہیں پڑیں گے۔اگر ہر ایک اپنا جائزہ لے تو خود ہی ہر ایک کے سامنے آ جائے گا کہ کون کون کن کن برائیوں میں مبتلا ہے اور کون کون سی برائیاں چھوڑی ہیں اور چھوڑنی ہیں تو پھر یقیناً اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی جنت کے نظارے دیکھیں گے۔سچی توبہ کے بعد پھر قدم پہلے سے آگے بڑھیں گے۔مزید نیکیوں کی توفیق ملے گی اور یہی نیکیاں اگلے جہان میں بھی کام آنے والی ہیں اور وہاں بھی درجے بڑھتے چلے جائیں گے۔جنت میں استغفار کی جو دعا ہے اس کا کیا مطلب ہے یا کیا حکمت ہے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بہشتی لوگ بھی استغفار کیا کریں گے۔ان کا استغفار گناہوں کے لئے نہیں ہوسکتا کیونکہ بہشت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا اور نہ وہ اپنی دنیاوی زندگی کے گناہوں کے لئے استغفار کیا کریں گے کیونکہ ہمیں اس سے پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ بہشت میں داخل ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کئے جائیں گے۔آیت اس طرح ہے عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَ نْهَارُ پس ان کا استغفار گزشتہ گناہوں کے لئے نہیں۔خود اس آیت میں ہمیں پتہ ملتا ہے ، اس لئے جونو راہل جنت کو ملے گا وہ ان کو اس نور کے مقابل میں ناقص نظر آئے گا جو ا بھی ان کو نہیں ملا۔اس نقص کو محسوس کر کے وہ خدا سے دعا کریں گے کہ ہمارا نور پورا کر اور ہماری اس ناقص حالت کو ڈھانپ دے مگر وہ کبھی نور سے سیر نہیں ہوں گے کیونکہ خدا کے نور کی کوئی حد نہیں۔اس لئے وہ ہمیشہ اور زیادہ نور مانگتے رہیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ استغفار روحانی ترقی کے لئے ایک دعا ہے۔چونکہ روحانی ترقی kh5-030425