خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 509 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 509

509 خطبہ جمعہ 06 اکتوبر 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم سمجھ نہیں سکتا۔کیونکہ الفاظ واضح نہیں ہوتے اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے اور اس کی تاویل یا تشریح کچھ اور ہو رہی ہوتی ہے۔یہ دعا حضرت نوح کی ہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو سمجھنے میں غلطی کی۔اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا لیکن جب حضرت نوح نے بیٹے کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ اے اللہ میاں ! میرا بیٹا تو میرے اہل میں ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں مجھے سب پتہ ہے کہ کون اہل میں ہے اور کون نہیں اور اس کی تعریف کیا ہے۔کیونکہ اس کے دل میں نہ موجودہ حالت میں ایمان ہے اور نہ اس کی آئندہ ایمانی حالت ہونی ہے اس لئے وہ تیرے اہل میں شمار نہیں ہو سکتا اس لئے یہ دعا نہ مانگ۔پس یہ جواب سن کے حضرت نوح نے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ سے اس کی بخشش اور اس کا رحم ما نگا۔تو یہ واقعہ اور دعا سکھا کر ہمیں بھی توجہ دلائی ہے کہ تمہارے ساتھ زندگی میں ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔پس کبھی شکوہ نہ کرنا۔جس طرح میرے اس نیک بندے نے فوراً اللہ کے پیغام کو سمجھتے ہوئے استغفار کی ، اگر کبھی کسی قسم کا امتحان یا ابتلاء آئے تو شکوے کی بجائے استغفار کرو، اس کا رحم مانگو۔تمہارا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عمل کرو، صدقہ دو اور دعا کرو اور پھر اللہ تعالیٰ پر معاملہ چھوڑ واور پھر یہ دعا بھی ساتھ کرتے رہو کہ اے اللہ میں تیرے سامنے فضول سوال کرنے کی بجائے ہمیشہ تیری رضا پر راضی رہنے والا بنوں۔کیونکہ یہ حالت اللہ کے فضل سے ملتی ہے اس لئے فضول سوالوں سے بچنے کی بڑی ضروری دعا ہے تا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کی نظر اپنے بندے پر پڑتی رہے اور بندہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔یہ شکوے اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والے ہوتے ہیں اور آخر کار بندے کو نقصان پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ کا تو کچھ نہیں جاتا۔اس لئے ایسی حالت میں خاص طور پر جب انتہائی مایوسی اور صدمے کی حالت ہو اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ جھکنا چاہئے تا کہ ہر قسم کے شرک سے، انتشار ذہن سے بندہ محفوظ رہے۔پھر روحانی ترقی اور مغفرت الہی حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دعا سکھائی ہے کہ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير" (التحریم: 9) اے ہمارے رب ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے اور ہمیں بخش دے یقیناً ہر چیز پر جسے تو چاہے دائمی قدرت رکھتا ہے۔اس دعا سے پہلے ان لوگوں کا نقشہ کھینچا ہے جن لوگوں کے حق میں یہ دعا قبول ہوگی۔یہ وہ لوگ ہیں جو خالص تو بہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں۔فرمایا یا يُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوْا تُوْبُوْا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِى الله النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيْهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ (التحریم: 9) کہ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ کی طرف خالص توجہ کرتے ہوئے جھکو۔بعید نہیں کہ تمہارا رب تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے دامن میں نہریں بہتی ورنہ یہ kh5-030425