خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 499

499 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم چاہئے۔فرمایا کہ آجکل آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہیئے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِيْن (الاعراف : 24)۔یہ دعا اول ہی قبول ہو چکی ہے“۔( بدر جلد 1 نمبر 9 مورخہ 26 دسمبر 1902 ء صفحہ 66۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 577 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اس دعا کی طرف بہت توجہ دینی چاہئے کیونکہ آج کل تو حضرت مسیح موعود کے زمانے سے بھی زیادہ گناہ اور ظلمت پھیل چکا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے محفوظ رکھے اور اللہ کی رحمت ہمیشہ شامل حال رہے۔آپ نے فرمایا تھا کہ آج کل حضرت آدم علیہ السلام کی دعا پڑھنی چاہئے تو اس طرف بہت توجہ دیں۔پھر اسی دعا کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں ” دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہوا تو اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی حربہ کام نہ آیا۔آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا پائی اور وہ دعا یہی تھی کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِيْنَ۔“ ( بدر جلد 2 نمبر 10 مورخہ 27 / مارچ 1903 ء صفحہ 77۔ملفوظات جلد سوم صفحه 171 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا کہ ”ہمارا اعتقاد ہے کہ خدا نے جس طرح ابتداء میں دعا کے ذریعہ سے شیطان کو آدم کے زیر کیا تھا ، یعنی آدم نے شیطان سے اپنے آپ کو بچایا تھا۔اسی طرح اب آخری زمانہ میں بھی دعا ہی کے ذریعہ سے غلبہ اور تسلط عطا کرے گا، نہ تلوار سے۔۔۔آدم اول کو فتح دعا ہی سے ہوئی تھی۔اور آدم ثانی کو بھی جو آخری زمانہ میں شیطان سے آخری جنگ کرنا ہے اسی طرح دعا ہی کے ذریعہ فتح ہوگی۔الحکم جلد 7 نمبر 12 مورخہ 31 مارچ 1903 صفحہ 8 ملفوظات جلد سوم صفحہ 190-191 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس جہاں یہ دعا ذاتی طور پر مانگنی چاہئے وہاں جماعتی ترقی کے لئے بھی یہ دعا بہت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو آدم کہا، اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو آدم کہا ہے۔پھر دنیا و آخرت کی حسنات کے لئے ایک دعا سکھائی کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة : 202) کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی فرمایا کرتے تھے کہ صرف آخرت کی حسنات نہ مانگو بلکہ دنیا کی حسنات بھی مانگو۔ایک روایت میں آتا ہے، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت فرمائی جو بیماری کے باعث کمزور ہوتے ہوئے بہت دبلا پتلا ہوگیا تھا، چوزے کی طرح ہو گیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کیا تم کوئی خاص دعا کرتے ہو اس نے جواب دیا ہاں ، پھر اس نے بتایا کہ میں یہ دعا کرتا ہوں کہ اے اللہ ! جو سزا تو مجھے