خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 469
469 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چہارم غور کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ ان کی رسالت لوگوں کے حق میں مفید ہوئی یا مضر؟ جولوگ آنحضرت ( رت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سخت دشمن ہیں وہ بھی اور عیسائی اور یہودی بھی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو باوجود پیغمبر برحق نہ ماننے کے اس بات کو ضرور تسلیم کریں گے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دعویٰ نبوت ایک نہایت مفید مسئلے کی تلقین کے لئے کیا تھا۔گو وہ یہ کہیں کہ صرف ہمارے ہی مذہب کا مسئلہ اس سے اچھا ہے۔گویا وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سوائے ہمارے مذہب کے تمام دنیا کے اور مذاہب سے مذہب اسلام اچھا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کے خون کے کفارے کو نماز و روزہ و خیرات سے بدل دیا جو ایک پسندیدہ اور سیدھی سادی عبادت ہے۔یعنی جو انسان کی قربانی بتوں پر ہوتی تھی اس کو معدوم کر دیا۔آنحضرت نے مسلمانوں میں نیکی اور محبت کی ایک روح پھونک دی ، آپس میں بھلائی کرنے کی ہدایت کی اور اپنے احکام اور نصیحتوں سے انتقام کی خواہش اور بیوہ عورتوں اور یتیموں پر ظلم وستم کو روک دیا۔قو میں جو ایک دوسرے کی جانی دشمن تھیں وہ اعتقاد وفرمانبرداری میں متفق ہو گئیں اور خانگی جھگڑوں میں جو بہادری بیہودہ طور سے صرف ہوتی تھی وہ نہایت مستعدی سے غیر ملک کے دشمن کے مقابلے پر مائل ہوگئی۔| (Edward Gibbon'The History of the Decline and Fall of the Roman Empire' Vol۔V۔Page 231۔Penguins | Classics(1st published 1788۔this edition 1996) پھر جان ڈیون پورٹ لکھتے ہیں اس بات کا خیال کرنا بہت بڑی غلطی ہے کہ قرآن میں جس عقیدے کی تلقین کی گئی ہے اس کی اشاعت بزور شمشیر ہوئی۔کیونکہ جن لوگوں کی طبیعتیں تعصب سے مبراء ہیں وہ بلا تامل اس بات کو تسلیم کریں گے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین جس کے ذریعہ سے انسانوں کی قربانی کے بدلے نماز اور خیرات جاری ہوئی اور جس نے عداوت اور دائمی جھگڑوں کی جگہ فیاضی اور حسن معاشرت کی ایک روح لوگوں میں پھونک دی۔وہ مشرقی دنیا کے لئے ایک حقیقی برکت تھا اور اسی وجہ سے خاص کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان خون ریز تدبیروں کی ضرورت نہ ہوئی جن کا استعمال بلا استثناء اور بلا امتیاز حضرت موسی نے بت پرستی کے نیست و نابود کرنے کے لئے کیا تھا۔پس ایسے اعلیٰ وسیلہ کی نسبت جس کو قدرت نے بنی نوع انسان کے خیالات و مسائل پر مدت دراز تک اثر ڈالنے کے لئے پیدا کیا ہے گستاخانہ پیش آنا اور جاہلانہ مذمت کرنا کیسی لغو بات ہے۔(John Devonport 'An Apology for Muhammad and the Quran'۔(1st published 1869) ایڈورڈ گبن صاحب لکھتے ہیں ” مسلمانوں کی لڑائیوں کو ان کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مقدس قرار دیا تھا مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی حیات میں جو مختلف نصیحتیں کیں اور نظیر میں قائم کیں ان سے خلفاء نے دوسرے مذاہب کو آزادی دینے کا سبق حاصل کیا۔ملک عرب میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خدا کی عبادت گاہ اور ان کا مفتوحہ ملک تھا۔اگر وہ چاہتے تو وہاں کے بہت سے دیوتاؤں کے ماننے والوں اور بت پرستوں کو شرعاً نیست و نابود کر سکتے تھے، مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے