خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 468 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 468

468 خطبہ جمعہ 15 ستمبر 2006 خطبات مسرور جلد چهارم مگر چونکہ اس کا باپ زندہ تھا اور اس وقت پاس ہی کھڑا تھاوہ ایک سوالیہ شکل بنا کے اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔باپ نے بیٹے سے کہا کہ اگر تم قبول کرنا چاہتے ہو تو کر لو۔چنانچہ لڑکے نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایک روح آگ کے (بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبي) عذاب سے بچ گئی۔اب اس قرآنی تعلیم سے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی چند مثالوں سے جو میں نے بیان کی ہیں ظلم کی اور جو الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اس کی حقیقت تو واضح ہو گئی۔یہ تو پتہ چل گیا کہ اسلام کس طرح پھیلا ہے۔اور شروع میں جو میں نے بتایا تھا کہ چین میں کیا سلوک ہوا اس سے ان لوگوں کی حقیقت بھی واضح ہو گئی۔انصاف پسند عیسائی مستشرقین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔اس کی بھی میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔کارلائل صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”ہم لوگوں ( یعنی عیسائیوں ) میں جو یہ بات مشہور ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک پرفن اور فطرتی شخص اور جھوٹے دعویدار نبوت تھے اور ان کا مذہب دیوانگی اور خام خیالی کا ایک تو وہ ہے۔اب یہ سب باتیں لوگوں کے نزدیک غلط ٹھہرتی جاتی ہیں۔جو جھوٹی باتیں متعصب عیسائیوں نے اس انسان ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نسبت بنائی تھیں اب وہ الزام قطعاً ہماری روسیاہی کا باعث ہیں۔اور جو باتیں اس انسان ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اپنی زبان سے نکالی تھیں 1200 برس سے 18 کروڑ آدمیوں کے لئے بمنزلہ ہدایت کے قائم ہیں۔(اُس وقت 18 کروڑ تھے جب انہوں نے لکھا تھا)۔اس وقت جتنے آدمی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کلام پر اعتقاد رکھتے ہیں اس سے بڑھ کر اور کسی کے کلام پر اس زمانے کے لوگ یقین نہیں رکھتے۔میرے نزدیک اس خیال سے بدتر اور نا خدا پرستی کا کوئی دوسرا خیال نہیں ہے کہ جھوٹے آدمی نے یہ مذہب پھیلایا۔(Thomas Carlyle, 'On Heros-Worship and the Heroic in History' Pages 43&44 U of Nebraska Press (1966) پھر سرولیم میور( یہ کافی متعصب بھی ہیں ، بعض باتیں غلط بھی لکھی ہوئی ہیں ) یہ بھی لکھتے ہیں کہ ” ہم بلا تامل اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیشہ کے واسطے اکثر تو ہمات باطلہ کو جن کی تاریکی مدتوں سے جزیرہ نمائے عرب پر چھا رہی تھی کالعدم کر دیا۔بلحاظ معاشرت کے بھی اسلام میں کچھ کم خوبیاں نہیں ہیں۔مذہب اسلام اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ اس میں پر ہیز گاری کا ایک ایسا درجہ موجود ہے جو کسی اور مذہب میں نہیں ہے۔66 (Sir William Muir The Life of Muhammad' Vol۔IV۔Page 534۔Kessinger Publishing۔(1st published 1878, this edition 2003) پھر ایڈورڈ گین لکھتے ہیں ” حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سیرت میں سب سے آخری بات جو