خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 447
خطبات مسرور جلد چہارم 447 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 گھرانے کی بزرگی کی وجہ سے آج تک ہمارا کوئی فردان کی چار پائی پر بیٹھنے کی جرات نہیں کرتا۔میں تو ڈرتا ہوں کہیں اس قسم کی باتوں میں کوئی بے ادبی نہ ہو جائے۔(بہر حال ) آخر کار وہ ہمارے نمبر دار کو لے کر مولوی صاحب کے والد صاحب کے پاس گئے۔(اور کہتے ہیں کہ ) میرے چچا میاں علم دین صاحب اور حافظ نظام دین صاحب کے ہمراہ میرے پاس آئے اور سروں سے سب رشتہ داروں نے پگڑیاں اتار کر میرے پاؤں پر رکھ دیں اور چھینیں مار مار کر رونے لگے کہ اب یہ پگڑیاں آپ ہمارے سر پر رکھیں گے تو ہم جائیں گے ورنہ یہ آپ کے قدموں پر دھری ہیں۔یہ حالت دیکھ کر میرے والد اور چچا نے سفارش کی کہ ان کو معاف کر دو۔آخر میں مان کر اپنے بزرگوں کی معیت میں ان کے ساتھ دھدرہ پہنچا۔جیون خاں نے جب مجھے آتا ہوا دیکھا تو میری تو بہ، میری تو بہ کہتے ہوئے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے۔اور اتنا رویا اور چلایا کہ اس کی گریہ وزاری سے اس کے تمام گھر والوں نے بھی رونا پیٹنا شروع کر دیا۔اس وقت عجیب بات یہ ہوئی کہ جیون خاں جس کو علاقے کے طبیب لا علاج سمجھ کر چھوڑ گئے تھے ، ہمارے پہنچتے ہی افاقہ محسوس کرنے لگا اور جب تک ہم وہاں بیٹھے رہے وہ آرام سے پڑا رہا۔مگر جب ہم گاؤں کی طرف واپس جانے لگے تو پھر اس کے درد میں وہی اضافہ ہو گیا۔اس کے رشتہ داروں نے پھر مجھے بلایا۔اور کہا کہ آپ یہیں رہیں اور جب تک جیون خان پوری طرح ٹھیک نہ ہو جائے آپ ہمارے گھر ہی تشریف رکھیں اور اپنے گاؤں نہ جائیں۔(حضرت مولوی صاحب کہتے ہیں کہ ) ادھر محمد عالم اور اس کے ہم نواؤں نے جب میری دوبارہ آمد کی خبر سنی تو جا بجا اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ وہ مریض جسے علاقے کے اچھے اچھے طبیب لاعلاج بتا چکے ہیں، اب لب گور پڑا ہوا ہے، یہ مرزائی اسے کیا صحت بخشے گا۔یہ باتیں جب میرے کانوں میں پہنچیں تو میں نے جوش غیرت کے ساتھ خدا کے حضور جیون خان کی صحت کے لئے نہایت الحاح اور توجہ کے ساتھ دعا شروع کر دی۔چنانچہ ابھی ہفتہ عشرہ بھی نہ گزرا تھا کہ جیون خاں کو خدا نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اعجازی برکتوں کی وجہ سے دوبارہ زندگی عطا فرما دی اور وہ بالکل صحت یاب ہو گیا۔اس کرشمہ قدرت کا ظاہر ہونا تھا کہ اس گاؤں کے علاوہ گردو نواح کے لوگ حیرت زدہ ہو گئے اور جابجا اس کا چرچا کرنے لگے کہ آخر مرزا صاحب کوئی بہت بڑی ہستی ہیں جن کے مریدوں کی دعا میں اتنا اثر پایا جاتا ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ کے جلالی اور قہری ہاتھ نے ملاں محمد عالم کو پکڑا اور اس کی روسیاہی اور رسوائی کے بعد اسے ایسے بھیا تک مرض میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم کا آدھا طولانی حصہ بالکل سیاہ ہو گیا اور اسی مرض میں اس جہان سے کوچ کر گیا۔حیات قدسی حصہ اول صفحہ 26 تا 28 ) پھر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ موضع جاموں بولا جو