خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد چہارم 446 خطبہ جمعہ 08 ستمبر 2006 ختم نہیں ہوگا۔بلکہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں تجھے خوشخبری دیتا ہوں۔کہ وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (الجمعة :4 ) کہ تیری اتباع میں ایک شخص آخرین میں بھی مبعوث ہوگا، جو ابھی ان سے نہیں ملے۔لیکن وہ مبعوث ہو کر تیری پیروی کی وجہ سے ان میں بھی ایک روحانی انقلاب پیدا کر دے گا۔وہ بھی قبولیت دعا کے خارق عادت نشانات دکھائے گا اور اس کے ماننے والے بھی دعا کی قبولیت کے خارق عادت نشانات دکھائیں گے۔آج ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی جماعت میں ایسے بہت سے لوگ دیکھتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کے نشانات دکھا کر دوسروں کے لئے اتمام حجت یا ہدایت یا ایمان میں زیادتی کا باعث بنایا۔ایسی چند مثالیں میں پیش کرتا ہوں۔پہلی مثال مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کی ہے۔کہتے ہیں ، موضع دھدرہ میں جو ہمارے گاؤں سے جانب جنوب ایک کوس کے فاصلہ پر واقع ہے، جب میں تبلیغ کے لئے جاتا تو وہاں کا ملاں محمد عالم لوگوں کو میری باتوں کے سننے سے روکتا اور اس فتویٰ کفر کی جو مجھ پر لگایا گیا تھا جا بجا تشہیر کرتا۔آخر اس نے موضع مذکور کے ایک مضبوط نوجوان جیون خان نامی کو جس کا گھرانہ جتھے کے لحاظ سے بھی گاؤں کے تمام زمینداروں پر غالب تھا میرے خلاف ایسا بھڑکا یا کہ وہ میرے قتل کے درپے ہو گیا اور مجھے پیغام بھجوایا کہ اگر تم اپنی زندگی چاہتے ہو تو ہمارے گاؤں کا رخ نہ کرنا ورنہ پچھتانا پڑے گا۔میں نے جب یہ پیغام سنا تو دعا کے لئے نماز میں کھڑا ہو گیا اور خدا کے حضور گڑ گڑا کر دعا کی۔تب اللہ تعالیٰ نے جیون خاں اور ملاں محمد عالم کے متعلق مجھے الہا ما بتایا کہ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وتَبَّ۔مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ - اس القائے ربانی کے بعد مجھے دوسرے دن ہی اطلاع ملی کہ جیون خاں شدید قولنج میں مبتلا ہو گیا ہے اور ملاں محمد عالم ایک بداخلاقی کی بنا پر مسجد کی امامت سے الگ کر دیا گیا ہے۔پھر قولنج کے دورے کی وجہ سے جیون خاں کی حالت یہاں تک پہنچی کہ چند دنوں کے اندروہ قوی ہیکل جوان مشت استخوان ہو کر رہ گیا۔(ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا )۔اور اس کے گھر والے جب ہر طرح کی چارہ جوئی کر کے اس کی زندگی سے مایوس ہو گئے تو اس نے کہا کہ میرے اندر یہ وہی کلہاڑیاں اور چھڑیاں چل رہی ہیں جن کے متعلق میں نے میاں غلام رسول را جیکی والوں کو پیغام دیا تھا۔اگر تم میری زندگی چاہتے ہو تو خدا کے لئے اسے راضی کرو۔اور میرا گناہ معاف کراؤ ورنہ میرے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔(بہر حال کہتے ہیں ) ان کے رشتہ دار میرے پاس آئے۔اور ملاں نے ان کو کافی روکا تھا کہ نہ جاؤ۔گاؤں کے نمبردار کو ساتھ لے کر آئے۔اس نے مولوی صاحب کے متعلق ) جواب دیا کہ میاں صاحب اگر چہ ہماری برادری کے آدمی ہیں مگر ان کے