خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 440 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 440

خطبات مسرور جلد چہارم 440 خطبہ جمعہ یکم ستمبر 2006 اللہ تعالیٰ اور آخری دن پر ایمان لانے والی کسی بھی عورت کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مرنے والے کا سوگ کرے۔البتہ بیوی اپنے خاوند کے مرنے پر چار ماہ دس دن سوگ میں گزارتی ہے۔(بخاری کتاب الجنائز باب احداد المرأة على غير زوجها حديث نمبر 1280، كتاب الطلاق باب تحد المتوفى عنها زوجها اربعة اشهر و عشرًا حدیث نمبر 5334 ) جنازے میں شامل ہونے کے بارے میں روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ ثواب کی نیت سے جاتا ہے اور اس کے دفن ہونے تک ساتھ رہتا ہے تو وہ دو قیراط اجر لے کر واپس لوٹتا ہے۔اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر سمجھو اور جو شخص دفن ہونے سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ صرف ایک قیراط کا ثواب پاتا ہے۔(بخاری کتاب الایمان باب اتباع الجنائز من الايمان حدیث نمبر (47) اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔خاص طور پر ربوہ میں ہمیں نے پہلے بھی اس طرف توجہ دلائی تھی کہ جس محلے میں کوئی احمدی وفات پا جاتا ہے تو اس محلے کے لوگوں کا فرض ہے کہ اس جنازے کے ساتھ جایا کریں لیکن باہر سے موصیان کے جنازے ربوہ میں آتے ہیں تو ان کے لئے وہاں جماعتی طور پر انتظام ہونا چاہئے۔خدام الاحمدیہ کو بھی انتظام کرنا چاہئے کہ جنازے میں کافی لوگ شامل ہوا کریں۔پھر فوت شدہ کی خوبیوں کا ذکر کرتے رہنے کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے وفات یافتگان کی خوبیاں بیان کیا کرو۔اور ان کی کمزوریاں بیان کرنے سے احتراز کرو۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فى النهى عن سب الموتى حديث نمبر 4900) ابھی جمعہ کی نماز کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ میں ان سب کا جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا تھا وہ امریکہ کے جلسے سے متعلق ہے۔امریکہ میں میں نے جانا تھا لیکن حالات کی وجہ سے پروگرام ملتوی کرنا پڑا تو میرا خیال تھا کہ آج اس حوالے سے کچھ کہوں گا کیونکہ آج ان کے جلسے کا پہلا دن ہے۔لیکن پھر وفات یافتگان کے ذکر کی وجہ سے اس مضمون کو چھوڑنا پڑا۔لیکن مختصراً میں ان کو اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان دنوں میں دعاؤں پر بہت زور دیں۔یہ جلسے جس مقصد کے لئے منعقد کئے جاتے ہیں اس کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں ورنہ ان جلسوں کا کوئی فائدہ نہیں۔