خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 404
خطبات مسرور جلد چہارم 404 خطبه جمعه 18 /اگست 2006 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دعا کی کہ اے اللہ تو دوس قبیلے کو ہدایت دے اور ان کو لے آ۔(بخارى كتاب الجهاد و السير باب الدعاء للمشركين بالهدى ليتالفهم حدیث نمبر (2937 اس واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح سے ملتی ہے کہ طفیل بن عمرو ایک معزز انسان اور عقلمند شاعر تھے۔جب وہ مکہ آئے تو قریش کے بعض لوگوں نے ان سے کہا کہ اے طفیل ! آپ ہمارے شہر میں آئے ہیں اور اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عجیب فتنہ برپا کر رکھا ہے، نعوذ باللہ۔اس نے ہماری جماعت کو منتشر کر دیا ہے۔وہ بڑا جادو بیان ہے۔باپ بیٹے ، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے درمیان اس نے جدائی ڈال دی ہے۔ہمارے ساتھ جو بیت رہی ہے وہی خطرہ ہمیں تمہاری قوم کے بارہ میں بھی ہے۔پس ہمارا یہ مشورہ ہے کہ نہ تم اس شخص سے بات کرنا اور نہ اس کی کوئی بات سننا۔طفیل کہتے ہیں کہ کفار مکہ نے اتنی تاکید کی کہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں اس شخص کی بات نہیں سنوں گا اور کوئی بات کروں گا بھی نہیں۔لیکن مجھے پتہ تھا کہ بیت اللہ میں موجود ہیں تو وہاں جاتے ہوئے میں نے اپنے کانوں میں روئی ڈال لی تا کہ غیر ارادی طور پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز میرے کانوں میں نہ پہنچے۔کہتے ہیں کہ جب میں بیت اللہ میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔میں بھی قریب جا کے کھڑا ہو گیا تو کہتے ہیں کہ آپ کی تلاوت کے چند الفاظ کے سوا میں کچھ نہ سن سکا۔مگر جو سنا وہ مجھے اچھا کلام محسوس ہوا۔میں نے اپنے دل میں کہا، میرا برا ہو میں ایک عقلمند شاعر ہوں، برے بھلے کو خوب جانتا ہوں، آخر اس شخص کی بات سننے میں حرج کیا ہے۔اگر تو اچھی بات ہوگی تو میں اسے قبول کر لوں گا اور بری ہوگی تو چھوڑ دوں گا۔طفیل کہتے ہیں کہ کچھ دیر انتظار کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے تو میں آپ کے پیچھے ہولیا، جب آپ گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی قوم نے آپ کے بارے میں یہ کہا ہے اور میں اللہ کی قسم دے کے کہتا ہوں کہ مجھے اتنا ڈرایا ہے کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ڈالی ہوئی تھی کہ آپ کی بات نہ سن سکوں۔مگر اللہ تعالیٰ نے پھر بھی مجھے آپ کا کلام سنوا دیا اور جو میں نے سنا ہے وہ بہت عمدہ ہے۔آپ خود مجھے اپنے دعوے کے بارے میں بتائیں۔کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کے بارے میں بتایا اور قرآن شریف بھی پڑھ کر سنایا۔کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے اس سے خوبصورت کلام اور اس سے زیادہ صاف اور سیدھی بات کوئی نہیں دیکھی۔چنانچہ میں نے اسلام قبول کر لیا اور حق کی گواہی دی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! میں اپنی قوم کا سردار ہوں اور لوگ میری بات مانتے ہیں۔میرا ارادہ واپس جا کر اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلانے کا ہے، آپ میرے لئے دعا کریں۔کہتے ہیں اگلے دن جب میں اپنے قبیلے میں پہنچا تو میرے