خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 403
خطبات مسرور جلد چهارم 403 خطبہ جمعہ 18 اگست 2006 تھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس کے لئے کثرت مال اور اولاد کی جو دعا مانگی تھی اس کے نتیجہ میں حضرت انس کی زندگی میں 80 کے قریب آپ کے بیٹے اور پوتے اور پوتیاں اور نواسے نواسیاں تھیں اور آپ نے 103 یا بعض روایتوں میں آتا ہے کہ 110 سال تک عمر پائی۔(اسد الغابة جلد اوّل زير اسم انس بن مالك بن النضر صفحه 178 ، م مطبع دار الفكر بيروت (1993ء ایک اور روایت میں آپ کی دشمن کے لئے بددعا اور اس کی قبولیت کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز ادا کر رہے تھے کہ ابو جہل اور قریش کے چند لوگوں نے مشورہ کیا۔مکہ کے ایک کنارے پر اونٹ ذبیح کئے گئے تھے، انہوں نے بھیجا اور وہ اونٹ کی اوجڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر لا کر رکھ دیا۔حضرت فاطمہ آئیں اور اسے آپ کے اوپر سے اٹھایا۔اس پر آپ نے فریاد کی اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال ، اے اللہ ! تو قریش کو خود سنبھال، اے اللہ! تو قریش کو خود سنبھال۔راوی کہتے ہیں کہ یہ بددعا ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابو معیط وغیرہ کے متعلق تھی۔عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سب کو بدر کے میدان میں مقتولین میں دیکھا۔(بخارى كتاب الجهاد والسير باب الدعاء على المشركين بالهزيمة والزلزلة حديث نمبر (2934 یہ تھا انجام ان سرداران قریش کا جنہوں نے مکہ میں آپ کا جینا دوبھر کیا ہوا تھا اور جن کی وجہ سے آپ کو اس شہر سے ہجرت کرنی پڑی ، جو آپ کا شہر تھا۔اور ہجرت کے وقت آپ نے مکہ کی طرف دیکھ کر یہ فرمایا تھا کہ اے بستی تو تو مجھے بہت پیاری ہے لیکن تیرے لوگ مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سرداران قریش کے لئے بددعا کی تو اس لئے نہیں کہ آپ کے دل کی سختی تھی۔آپ کے دل کی نرمی کی تو کوئی انتہا نہیں تھی تبھی تو طائف کے سفر پر لوگوں کے ظلم کے باوجود جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہاڑوں کا فرشتہ یہ پیغام لے کر آیا کہ اگر چاہیں تو دو پہاڑوں کو ملا دوں اور لوگوں کو بیچ میں ہیں دوں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں ، انہیں میں سے اللہ کی عبادت کرنے والے پیدا ہوں گے۔یہ تھا آپ کا بنی نوع سے ہمدردی کا معیار کہ باوجود اجازت کے بددعا نہیں کی لیکن قوم کے لیڈر چونکہ بددعا کے مستحق تھے، ان کے لئے کی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمر والد وسی اور ان کے ساتھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! دوس قبیلے نے اسلام کی دعوت کا انکار کر دیا ہے اس لئے آپ ان کے خلاف بددعا کریں کسی نے کہا کہ اب تو دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔