خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 395
خطبات مسرور جلد چہارم 395 خطبه جمعه 11/اگست 2006 ہے۔وَلِلَّهِ الْاسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوْهُ بِهَا﴾ (الاعراف : 181 ) اور اللہ ہی کے سب خوبصورت نام ہیں پس ان ناموں سے اسے پکارا کرو۔اس مجیب خدا نے مختلف جگہوں پر دعا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس کے سلیقے اور طریقے بھی سکھائے ہیں جن پر ہم میں سے ہر ایک کو عمل کرنا چاہئے کیونکہ اس میں ہماری بقا ہے۔اللہ تعالیٰ کس طرح ہمیں نواز نا چاہتا ہے۔یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہوگی کہ وہ تو ہمیں نو از نا چاہتا ہے لیکن ہم اس مجیب خدا کو نہ پکار میں بلکہ دوسروں کی طرف ہماری توجہ ہو اور پھر نہ پکار کر اس کے انعاموں سے محروم رہیں۔خدا تعالیٰ تو اپنی مخلوق سے پیار کی وجہ سے ہمیں یہ راستے دکھاتا ہے۔ورنہ اس کو ہماری پکار اور ہماری دعاؤں کی ضرورت تو نہیں ہے۔بندہ ہے جس کو خدا سے تعلق کی ، اس کی مدد کی ضرورت ہے، اس کو پکارنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ﴾ (الفرقان : 78) تُو کہہ دے کہ اگر تمہاری دعا نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری کوئی پرواہ نہ کرتا۔پس اللہ کو بھی ان لوگوں کی پرواہ ہے جو دعا کرنے والے ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے تو ہر چیز کے حصول کے لئے اسی خدا کو پکارنے کی ضرورت ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر تمہیں جوتی کا ایک تسمہ بھی چاہئے تو اس خدا سے مانگو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی انہیں الفاظ میں الہام ہوا تھا اور نظارہ دکھایا گیا تھا کہ بھیڑوں کی ایک لائن ہے جو زمین پر لیٹی ہوئی ہیں اور ایک شخص ان پر چھری پھیرتا چلا جاتا ہے اور ساتھ یہ کہتا ہے کہ تم تو بے حیثیت بھیڑیں ہی ہو، تمہاری حیثیت تو کوئی نہیں۔پس یہ الہام بھی ہمیں اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ مانگتے رہنے والے ہوں اور اس امام سے جڑے رہتے ہوئے ، اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے اس مجیب خدا کو پکارنے والے بہنیں اور اس پر کامل ایمان لا کر اس کے حکموں پر عمل کریں اور ان لوگوں میں سے نہ بنیں جو مشکل کے وقت تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اور آسانی اور آسائش میں بھول جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم لوگ سمندر میں ، پانی میں پھنسے ہوتے ہوتو پکارتے ہو، آہ وزاری کرتے ہو۔جب وہ تمہیں خشکی میں لے آتا ہے تو پھر تم بھول جاتے ہو کہ خدا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :۔یا درکھو کہ یہ اسلام کا فخر اور ناز ہے کہ اس میں دعا کی تعلیم ہے۔اس میں کبھی سستی نہ کرو اور نہ اس سے تھکو۔پھر دعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبر دست ثبوت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے ﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ﴾ (البقرة : 187 ) یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے؟ تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اُسے جواب دیتا ہوں۔یہ جو اب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے۔اور علاوہ بریں دعاؤں کے