خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 394
394 خطبه جمعه 11/اگست 2006 خطبات مسرور جلد چهارم مجھے جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے، جو قرآن نے پیش کیا ہے ، جس نے کہا اُدْعُوْنِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ﴾ (المؤمن : 61) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا۔اور یہ بالکل سچی بات ہے۔کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو۔وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگا ر ہے آخر اس کی دعاؤں کا جواب اسے ضرور دیا جاوے گا۔قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لئے جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے۔الَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا ﴾ (ط : 90) کہ وہ ان کی بات کا کوئی جواب ان کو نہیں دیتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 147-148 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں دعا سکھائی ہے اور نہ صرف اپنے ایمان کی مضبوطی کے لئے بلکہ اپنی نسلوں کے ایمان کے لئے بھی تا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے آگے جھکے رہنے اور اس سے مانگنے کا یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل چلتا ر ہے۔اور اس کی اہمیت کے پیش نظر ہم دعا ئیں بھی کرتے ہیں۔نماز میں التحیات میں بیٹھے ہوئے ، درود شریف کے بعد، اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی ہے کہ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَاءِ (ابراهیم : 41 )۔کہ اے میرے رب مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری نسلوں کو بھی۔اے ہمارے رب اور میری دعا قبول کر۔پس جب ایک درد کے ساتھ ہم یہ دعا ہمیشہ مانگتے ہیں گے۔نہ کہ صرف ان دعاؤں کی طرف توجہ رہے گی جو کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے ہی اللہ کے حضور مضطر بن کر مانگی جاتی ہیں۔تو یہ بات ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنے گی۔اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے والا بنائے گی۔اور وہ مجیب خدا اس وقت اس دعا کی وجہ سے جو خالصہ اس کی رضا کے حصول کے لئے کی جارہی ہوگی ، دوسری دعاؤں کو بھی قبول فرمائے گا۔اللہ تعالیٰ اس دعا کا صحیح فہم و ادراک ہمیں عطا فر مائے اور آخرین کے امام کو مان کر ایمان میں ترقی کی جو ایک روح ہم میں دوبارہ پیدا ہوئی ہے وہ بڑھتی چلی جائے۔اور وہ مجیب خدا ہماری دعاؤں کو سنتے ہوئے ہمیشہ اس جماعت کو نماز قائم کرنے والوں کی جماعت بنائے رکھے۔پھر اس بات کے ساتھ کہ مضبوط ایمان ہو، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل ہو، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے سے دعائیں مانگو اور خالص ہو کر مانگو۔اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ مختلف دعائیں مانگنے کے طریقے کیا ہیں؟ فرمایا کہ وہ طریقے یہ ہیں کہ جو میری مختلف صفات ہیں ان کے حوالے سے اپنی مختلف قسم کی جو ضروریات ہیں ان کے لئے دعا مانگو۔یہ بات بندے اور خدا کے تعلق کو مزید قرب دلانے والی ہوگی ، قریب کرنے والی ہوگی، ایمان میں بڑھانے والی ہوگی اور قبولیت دعا کا ذریعہ بنے گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا