خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 299

299 خطبہ جمعہ 16 جون 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم ہے۔اس نے کہا یہ مصالحے ہیں اس کو رگڑو گے تو ماتھے کی جلد پر ایسا نشان پڑے گا اور یہ مصالحہ لگاؤ گے تو ماتھے کی جلد پر ایسا نشان ڈل جائے گا۔تو یہ ہیں ان لوگوں کے نشانات۔ایسے لوگوں کے بارے میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کی نمازیں بھی الٹا کر ان کے منہ پر ماری جاتی ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں سے پھر اللہ تعالیٰ یہ وعدہ فرماتا ہے کہ تم ایسے کام کرو گے اور تم اپنا ہر فعل خدا کی خاطر کرو گے اور کامل فرمانبردار بن جاؤ گے تو پھر تمہاری ان کوششوں کو اللہ تعالیٰ اس طرح پھل لگائے گا کہ جو تمہارے دشمن ہیں وہ بھی تمہارے دوست بن جائیں گے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔﴿ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (حم السجدة :35) کہ ایسی چیز سے دفاع کر جو بہترین ہو۔تب ایسا شخص جس کے اور تیرے در میان دشمنی تھی وہ گویا اچانک ایک جاں نثار دوست بن جائے گا۔پس بہترین دفاع اسلام کی خوبصورت تعلیم سے، اور اس تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے سے ہوگا۔یہ سب الزامات جو آج اسلام پر لگائے جاتے ہیں اُن کو عملی نمونے کے ساتھ دھونے کے لئے ، اس پیغام کو پہنچانا بہت ضروری ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ تعلیم اس لئے تھی کہ اگر دشمن بھی ہو تو اس نرمی اور حسن سلوک سے دوست بن جائے اور ان باتوں کو آرام اور سکون کے ساتھ سمجھ لے۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” تقویٰ کے بہت سے اجزاء ہیں۔عجب ، خود پسندی ، مال حرام سے پر ہیز اور بداخلاقی سے بچنا بھی تقویٰ ہے۔جو شخص اچھے اخلاق ظاہر کرتا ہے اس کے دشمن بھی دوست ہو جاتے ہیں“۔پھر فر مایا: ”اب خیال کرو کہ یہ ہدایت کیا تعلیم دیتی ہے؟۔اس ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ اگر مخالف گالی بھی دے تو اس کا جواب گالی سے نہ دیا جائے بلکہ اس پر صبر کیا جائے۔یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کے بارے میں ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مخالف تمہاری فضیلت کا قائل ہو کر خود ہی نادم اور شرمندہ ہو گا۔اور یہ سزا اس سزا سے بہت بڑھ کر ہوگی جو انتظامی طور پر تم اس کو دے سکتے ہو۔یوں تو ایک ذرا سا آدمی اقدام قتل تک نوبت پہنچا سکتا ہے لیکن انسانیت کا تقاضا اور تقویٰ کا منشاء یہ نہیں ہے۔خوش اخلاقی ایک ایسا جو ہر ہے کہ موذی سے موذی انسان پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 50-51 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ اعمال صالحہ کا معیار ہے جو ہم نے اپناتا ہے۔اور اس سے تبلیغی راستے بھی کھلیں گے۔اور اس سے ہماری آپس کی رنجشیں اور کدورتیں بھی دور ہوں گی۔کیونکہ نیک نمونے دکھانے کے لئے ، احمدی معاشرے کا وقار قائم کرنے کے لئے آپس میں بھی محبت پیار سے رہتے ہوئے رنجشیں دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔kh5-030425