خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد چهارم 286 خطبہ جمعہ 09 جون 2006ء میں یہ تاثر نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ فلاں مربی یا مبلغ کے فلاں شخص سے بڑے قریبی تعلقات ہیں اور اگر کوئی معاملہ اس کے سامنے پیش کیا جائے تو فلاں مربی یا مبلغ یا واقف زندگی اس کی ناجائز طرفداری کرے گا۔مربی ، مبلغ یا کسی بھی مرکزی عہدیدار کا یہ کام ہے کہ اپنے آپ کو ہر مصلحت سے بالا رکھ کر ، ہر تعلق کو پس پشت ڈال کر جماعتی مفاد کے لئے کام کرنا ہے اور جماعت کے افراد کے لئے عمومی طور پر بھی اور بعض معاملات اٹھنے پر خاص طور پر بھی ایسا رویہ رکھیں اور تربیت کریں کہ فریقین ہمیشہ اطاعت کے دائرے میں رہیں۔یہ مربیان کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جماعت میں اطاعت کی روح پیدا کر دیں۔کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دینی علم سے بھی نوازا ہوا ہے۔پس اس طرف خاص توجہ دیں۔جماعت میں جماعت کی روح پیدا کرنے کے لئے بنیادی چیز ہی یہ ہے کہ جماعت کے ہر فرد میں اطاعت کا جذبہ اور روح پیدا کر دیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اطاعت کی طرف بہت توجہ دلائی ہے۔جیسا کہ میں نے جو آیت تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اطاعت کرنے والوں کا ہی انجام اچھا ہے۔بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ انجام بخیر ہو، تو انجام بخیر کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اہم راستہ ہمیں دکھا دیا ہے کہ اللہ اور رسول اور اولوالامر کی اطاعت کرو اور اپنے اوپر یہ لازم کر لو تو اللہ تم پر رحم فرماتے ہوئے پھر تمہارا انجام بخیر کرے گا۔اس بارہ میں کہ کس حد تک ہمیں اطاعت کرنی چاہئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے امیر کی اطاعت، میری اطاعت ہے اور میری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور میرے امیر کی نافرمانی میری نافرمانی ہے اور میری نافرمانی خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔تو اس حد تک اطاعت کا حکم ہے۔اس کو ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کیونکہ یہی ہماری بنیاد ہے ، یہی ہماری اساس ہے اور اس کے بغیر جماعت کا تصور ہی نہیں ہے۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (آل عمران : 133 ) کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ رحم کئے جاؤ تو اللہ تعالیٰ کا یہ رحم حاصل کرنے کے لئے اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی ہوگی۔وہ اطاعت جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے حدیث میں آتا ہے کہ امیر کی اطاعت کرو گے تو میری اطاعت کرو گے اور میری اطاعت کرو گے تو خدا کی اطاعت کرو گے۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ رحم حاصل کرنے کی ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اطاعت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آسان کام نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے اطاعت کے دائرے میں ہی ایک احمدی نے رہنا ہے۔بہت سی باتیں عہدیداران یا امراء کی طرف سے ایسی ہوتی ہیں جو طبیعت پر گراں گزرتی ہیں۔لیکن جماعت کے وقار اور kh5-030425