خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 262

262 خطبہ جمعہ 26 رمئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم جو اپنے افعال شنیعہ سے تو بہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں“۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19) پس ایسی تہمتیں لگانے والوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اپنی جماعت سے خارج کر دیا ہے۔اگر خدا کے خوف کی کوئی رمق بھی ایسے لوگوں کے دل میں ہے جو دوسروں پر تہمتیں لگا کر ان کا امن وسکون برباد کرتے رہتے ہیں تو وہ تو بہ کریں، اللہ تعالیٰ سے استغفار کریں۔اور پھر سچے دل کے ساتھ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی کوشش کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلاً گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی برا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے اَ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَّأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ ﴾ (الحجرات: 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو یہ سب برے کام ہیں۔( بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد چہارم صفحہ 219 زیر سورۃ الحجرات) پھر ایک برائی بدگمانی ہے، بدظنی ہے، خود ہی کسی کے بارے میں فرض کر لیا جاتا ہے کہ فلاں دو آدمی فلاں جگہ بیٹھے تھے اس لئے وہ ضرور کسی سازش کی پلانٹنگ کر رہے ہوں گے یا کسی برائی میں مبتلا ہوں گے۔اور پھر اس پر ایک ایسی کہانی گھڑ لی جاتی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔اور پھر اس سے رشتوں میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔دوستوں کے تعلقات میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔معاشرے میں بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔اس لئے قرآن کریم میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔فرمایا ياَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا ﴾ (الحجرات: 13) که اے ایمان والوں بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجسس سے کام نہ لیا کرو۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اسی سے ذاتی تعلقات میں بہتری کی بنیاد قائم رہے گی اور اسی سے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہو گا۔بعض لوگ بعض کے بارے میں بدظنیاں صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ذلیل کیا جائے اور دوسروں کی نظروں سے گرایا جائے اور اگر کسی جماعتی عہد یدار kh5-030425