خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 20
20 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم الوداع کہا اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں ہجرت کرلوں۔سوالحمد للہ میں بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کوٹلہ سے ہجرت کر لی ہے اور شرعاً مہاجر پھر اپنے وطن میں واپس اپنے ارادہ سے نہیں آسکتا۔یعنی اس کو گھر نہیں بنا سکتا۔ویسے وہ مسافرانہ آئے تو آئے۔پس اس حالت میں میرا آنا محال ہے۔میں بڑی خوشی اور عمدہ حالت میں ہوں، ہم جس شمع کے پروانے ہیں اس سے الگ کس طرح ہو سکتے ہیں۔میرے پیارے بزرگ بھائی میں یہاں خدا کے لئے آیا ہوں اور میری دوستی اور محبت بھی خدا کے لئے ہے۔میں کوٹلہ سے الگ ہوں مگر کوٹلہ کی حالت زار سے مجھ کو سخت رنج ہوتا ہے۔خداوند تعالیٰ آپ کو اور ہماری ساری برادری اور تمام کوٹلہ والوں کو سمجھ عطا فرمائے کہ آپ سب صاحب اسلام کے پورے خادم بن جائیں اور ہم سب کا مرنا اور جینا محض اللہ ہی کے لئے ہو۔ہم خداوند تعالیٰ کے پورے فرمانبردار مسلم بن جائیں۔ہماری شرائط بیعت میں ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے شکر گزار ہوں، اس کی پوری اطاعت کریں یہی چیز مجھ کو یہاں رکھ رہی ہے کہ جوں جوں مجھ میں ایمان بڑھتا جاتا ہے، اسی قدر د نیا بیچ معلوم ہوتی جاتی ہے اور دین متقدم ہوتا جاتا ہے۔اور خداوند تعالیٰ اور انسان کے احسان کے شکر کا احساس بھی بڑھتا جاتا ہے اسی طرح گورنمنٹ عالیہ کی فرمانبرداری اور شکر گزاری دل میں پوری طرح سے گھر کرتی جاتی ہے۔( اصحاب احمد۔جلد نمبر 2 صفحہ 126- 129 تو دیکھیں یہ تبدیلی ہے جو نواب صاحب میں پیدا ہوئی۔پھر بعد میں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے داماد بھی بنے۔اُن کی نسل کو بھی چاہئے اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلیں جنہوں نے دنیا کو دین کی خاطر چھوڑ دیا اور دین کو دنیا پر مقدم کیا۔پھر ایک ذکر آتا ہے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے الفاظ میں ہی ہے، آپ فرماتے ہیں: جی فی اللہ منشی ظفر احمد صاحب۔یہ جوان صالح ، کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار وانوار اُس میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات اور امارات اس میں پیدا ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہے اور ان سے لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے اور ادب جس پر تمام مدارا اصول فیض کا ہے اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیر تیں اس میں پائی جاتی ہیں۔جزاهم الله خير الجزاء“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 532-533) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ رقم کی ایک تحریک فرمائی تھی ، چندہ کی ضرورت تھی کہ وہاں کی جماعت سے لے کر آئیں۔تو یہ خودہی اہلیہ کازیور بیچ کر لے آئے تھے اور جماعت کو پتہ بھی kh5-030425