خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 19

19 خطبہ جمعہ 13 جنوری 2006ء خطبات مسرور جلد چهارم حضرت نواب محمد علی خان صاحب جو مالیر کوٹلے کے نواب خاندان سے تھے ، رئیس خاندان کے تھے، نوجوان تھے، ان میں گونیکی تو پہلے بھی تھی۔لہو و لعب کی بجائے ، اوٹ پٹانگ مشغلوں کی بجائے جو نوجوانوں میں پائے جاتے ہیں، اُن میں اللہ کی طرف رغبت تھی، اچھی عادتیں تھیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت نے اس کو مزید صیقل کیا اور چمکایا۔انہوں نے خود ذکر کیا ہے کہ پہلے میں کئی دفعہ نمازیں چھوڑ دیا کرتا تھا۔اور دنیا داری میں پڑا ہوا تھا۔لیکن بیعت کے بعد ایک تبدیلی پیدا ہوگئی۔ان کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : رجبی فی اللہ نواب محمد علی خان صاحب رئیس خاندان ریاست مالیر کوٹلہ (ازالہ اوہام میں یہ ذکر ہے ) قادیان میں جب وہ ملنے کے لئے آئے تھے اور کئی دن رہے، پوشیدہ نظر سے دیکھتا رہا ہوں کہ التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نما ز پڑھتے ہیں اور منکرات اور مکروہات سے بالکل مجتنب ہیں“۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 526) حضرت نواب محمد علی خان صاحب خود اپنے بھائی کو ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ : جن امور کے لئے میں نے قادیان میں سکونت اختیار کی میں نہایت صفائی سے ظاہر کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت اقدس مسیح موعود اور مہدی مسعود کی بیعت کئے ہوئے بارہ سال ہو گئے اور میں اپنی شومئی طالع سے گیارہ سال گھر ہی میں رہتا تھا ، بدنصیبی سے، بدقسمتی سے گیارہ سال گھر ہی میں رہتا تھا۔اور قادیان سے مہجور تھا۔صرف چند دن گاہ بگاہ یہاں آتا رہا اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر بہت سی عمر ضائع کی۔آخر جب سوچا تو معلوم کیا کہ عمر تو ہوا کی طرح اڑ گئی اور ہم نے نہ کچھ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا۔اور آخر مجھ کو یہ شعر یاد آیا کہ: ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دُوں این خیال است و محال است و جنوں خدا کو بھی چاہنا اور گھٹیاد نیا کو بھی چاہنا یہ صرف ایک خیال ہے اور یہ ناممکن ہے اور پاگل پن ہے ) لکھتے ہیں کہ : ” یہاں میں چھ ماہ کے ارادے سے آیا تھا مگر یہاں آکر میں نے اپنے تمام معاملات پر غور کیا تو آخر یہی دل نے فتویٰ دیا کہ دنیا کے کام دین کے پیچھے لگ کر تو بن جاتے ہیں مگر جب دنیا کے پیچھے انسان لگتا ہے تو دنیا بھی ہاتھ نہیں آتی اور دین بھی برباد ہو جاتا ہے۔اور میں نے خوب غور کیا تو میں نے دیکھا کہ گیارہ سال میں نہ میں نے کچھ بنایا اور نہ میرے بھائی صاحبان نے کچھ بنایا۔اور دن بدن ہم باوجود اس مایوسانہ حالت کے دین بھی برباد کر رہے ہیں۔آخر یہ سمجھ کر کہ کار دنیا کسے تمام نکرد، کوٹلہ کو kh5-030425