خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 236 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 236

236 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم پس یہ بہت بڑا انذار ہے۔انسان جوں جوں دنیاوی دھندوں میں پڑتا ہے اللہ کی عبادت سے غافل ہوتا جاتا ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل شامل حال ہو۔پس ہرلمحہ، ہر وقت ایک احمدی کو اس فضل کو سمیٹنے کی فکر میں لگے رہنا چاہئے۔اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے جو خالص ہو کر اس کے حضور ادا کی جائے۔پس اپنی عبادتوں کی طرف خاص توجہ دیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کریں تا کہ خدا تعالیٰ آپ کی اور آپ کی نسلوں کی حفاظت فرمائے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو چھوڑ نا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔(الترغيب والترهيب جلد اول صفحه 284 الترهيب من ترك الصلوة تعمدا حدیث نمبر 834 طبع اول 1994 دار الحدیث (قاهره پہلے جو میں نے بیان کیا تھا کہ صحابہ نماز ترک کرنے کو کفر کے برابر سمجھتے تھے وہ اس لئے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت پا کر نمازوں کی اہمیت کو سمجھا تھا۔پس یہاں مزید ڈرایا ہے کہ نمازیں چھوڑ نا صرف دین سے انکاری ہونا ہی نہیں ہے بلکہ نمازوں کو چھوڑنے والا شرک کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔اور جتنا زیادہ ہم دنیاوی دھندوں کی طرف بڑھتے جائیں گے اور نمازوں کی پرواہ نہ کریں گے، نمازوں میں بے احتیاطی کارجحان بڑھتا چلا جائے گا جو کہ آخر کار شرک کرنے والوں کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔پھر بچوں کو نمازوں کی عادت ڈالنے کے بارے میں حکم ہے۔اکثر کو یہ حکم یاد بھی ہوگا ، سنتے بھی رہتے ہیں، لیکن عمل کی طرف بہت کم توجہ ہے۔ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو نمازیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔صرف فرض پورا کرنے کے لئے عادت نہ ڈالیں بلکہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت راسخ کر دیں تا کہ وہ یہ سمجھ کر نماز پڑھنے والے ہوں کہ یہ ہمارے فائدے کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق ہی ہماری دنیا و آخرت کی بقا ہے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک آپ والدین خود بھی اللہ تعالیٰ سے خالص تعلق نہ جوڑیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سال کی عمر کے بچے کو نماز پڑھنے کی تلقین کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور فرمایا کہ جب بچے دس سال کے ہو جائیں تو نماز نہ پڑھنے پر سختی کرو اور فرمایا اس عمر میں بچوں کو اکٹھے ایک بستر پر بھی نہ سلاؤ۔تو نماز نہ پڑھنے پر سختی آپ لوگ اس وقت کر سکتے ہیں جب کہ خود آپ کے عمل ہی ایسے ہوں جو بچوں کے لئے نمونہ ہوں۔نماز میں اللہ تعالیٰ کے لئے پڑھی جانے والی ہوں نہ کہ دنیاوی اغراض کے لئے۔اور جب اس طرح نماز میں پڑھی جائیں گی تو وہ جہاں آپ کو اور آپ کے بچوں کو اللہ کا قرب دلانے والی ہوں گی اور دنیا و آخرت سنوار نے والی ہوں گی وہاں معاشرے میں بھی اس پاک تبدیلی کا اثر نظر آئے گا۔آپ کے دلوں کے کینے اور بغض بھی نکلیں گے۔اور اس طرح سے ہر ایک کو جماعت کے وقار کو اونچا کرنے کی بھی فکر رہے گی۔معاشرے میں بھی نیک اثر قائم ہوگا۔جن لوگوں نے یہاں جاپانی عورتوں سے شادیاں کی ہوئی ہیں ان کے خاندانوں kh5-030425