خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 235

235 خطبہ جمعہ 12 مئی 2006 ء خطبات مسرور جلد چہارم پس ایک احمدی کے لئے اس طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ورنہ احمدی ہونے کے بعد دعاؤں سے بے رغبتی اور نمازوں سے لا پرواہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کا وارث نہیں بنا سکتی۔جلسہ پر آنے والوں کے لئے بھی اور ویسے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت دعائیں کی ہیں۔ان سے اگر حصہ لینا ہے اور ان کا وارث بنتا ہے تو ہمیں اپنی روحانی ترقی کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔احمدی ہونے کے بعد جب ہم پہلوں سے ملنے کی باتیں کرتے ہیں تو وہ نمونے بھی قائم کرنے کی کوشش کرنی ہوگی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے قائم کئے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ صحابہ نماز کے علاوہ کسی عمل کو بھی ترک کرنا کفر نہ سمجھتے تھے۔یعنی نماز چھوڑنا ان کے نزدیک کفر کے برابر تھا۔پس یہ معیار ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔(الترغيب والترهيب جلد اول صفحه 284 الترهيب من ترك الصلوة تعمدا حدیث نمبر 834 طبع اول 1994 دار الحديث قاهره حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان کی پیدائش کی اصل غرض تو عبادت الہی ہے۔لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو خارجی اسباب اور بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بیکار کر لیتا ہے۔یعنی فطرت جو اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس کو دنیا داری کے دھندوں میں ڈال دیتا ہے، دوسری مصروفیات میں مشغول ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتا۔دوسری چیزیں اس کے لئے زیادہ فوقیت رکھتی ہیں۔فرمایا: ” بیرونی تعلقات سے تبدیل کر کے بیکار کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے ﴿قُلْ مَا يَعْبَوا بكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ ﴾ (سورة الفرقان آیت : 78) فرمایا کہ میں نے ایک بار پہلے بھی بیان کیا تھا کہ میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ میں ایک جنگل میں کھڑا ہوں ، شرقا غرباً اس میں ایک بڑی نالی چلی گئی ہے۔اس نالی پر بھیٹر میں لٹائی ہوئی ہیں اور ہر ایک قصاب جو ہر ایک بھیڑ پر مسلط ہے ہاتھ میں چھری ہے جو انہوں نے ان کی گردن پر رکھی ہوئی ہے اور آسمان کی طرف منہ کیا ہوا ہے۔میں ان کے پاس ٹہل رہا ہوں۔میں نے یہ نظارہ دیکھ کر سمجھا کہ یہ آسمانی حکم کے منتظر ہیں تو میں نے یہی آیت پڑھی قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان آیت : 78 ) یہ سنتے ہی ان قصابوں نے فی الفور چھریاں چلا دیں۔یعنی ان بھیڑوں کی گردنوں پر پھیر دیں اور یہ کہا کہ تم ہو کیا ؟۔آخر گوہ کھانے والی بھیٹر میں ہی ہو۔غرض خدا تعالی متقی کی زندگی کی پرواہ کرتا ہے اور اس کی بقا کو عزیز رکھتا ہے اور جو اس کی مرضی کے برخلاف چلے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا اور اس کو جہنم میں ڈالتا ہے۔اس لئے ہر ایک کو لازم ہے کہ اپنے نفس کو شیطان کی غلامی سے باہر کرے۔جیسے کلور و فام نیند لاتا ہے اسی طرح پر شیطان انسان کو تباہ کرتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سلا تا ہے اور اسی میں اس کو ہلاک کر دیتا ہے۔الحکم جلد 5 نمبر 30 مورخه 17/اگست 1901 صفحہ 1) kh5-030425