خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 215

خطبات مسرور جلد چهارم 215 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء کو بہت زیادہ کسی چیز کی ضرورت ہے۔اور جیسے ایک فقیر اور سائل نہایت عاجزی سے کبھی اپنی شکل سے اور کبھی آواز سے دوسرے کو رحم دلاتا ہے۔اس طرح سے چاہئے کہ پوری تضرع اور ابتہال کے ساتھ یعنی منت سے گڑ گڑا کر ، زاری کر کے روئے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض حال کرے۔پس جب تک نماز میں تضرع سے کام نہ لئے جب تک نماز میں روئے نہیں اور دعا کے لئے نماز کو ذریعہ قرار نہ دے، نماز میں لذت کہاں“۔( ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 402 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ معیار ہیں جو ہمیں حاصل کرنے چاہئیں۔اپنے آپ کو دیکھیں جائزہ لیں کیا حضرت مسیح موعود کو ماننے کے بعد یہ چیزیں ہم میں پیدا ہوگئی ہیں، یہ معیار ہم نے حاصل کر لیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ بعض لوگ مختلف وظیفوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں بجائے اس کے کہ نماز پڑھیں اور دعائیں کریں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وظیفوں کے ہم قائل نہیں البتہ دعا کرنی چاہئے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔بچے اضطراب اور سچی تڑپ سے، جناب الہی میں گداز ہو، یعنی ایک بے چینی سے اور ایک تڑپ کے ساتھ ، ایک شوق کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کے حضور میں جھکے ایسا کہ وہ قادر حی و قیوم دیکھ رہا ہے۔اور یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ جو ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے وہ ہمیں دیکھ بھی رہا ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا۔جب آدمی اس طرح نماز پڑھتا ہے اور عبادتیں کرتا ہے تو گنا ہوں سے بھی ہٹتا جاتا ہے، برائیوں اور بدیوں کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔جس طرح انسان آگ یا ہلاک کرنے والی اور اشیاء سے ڈرتا ہے، خطرناک چیزوں سے انسان ڈرتا ہے، ویسے ہی اس کو گناہ کی سرزنش سے ڈرنا چاہئے۔اسی طرح اس گناہ کرنے سے بھی ڈرنا چاہئے اور اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ گناہ کرنے والے کو پکڑے گا۔اگر یہ ڈر ہوگا تو بچے گا۔گناہ گار زندگی انسان کے لئے اس دنیا میں مجسم دوزخ ہے جس پر عذاب الہی کی سموم چلتی ہے۔فرماتے ہیں کہ گناہگار انسان کو مکمل طور پر دوزخ بنادیتی ہے۔اور ایسے گناہگاروں پر اللہ تعالیٰ کے غضب کی ، غصے کی ، ناراضگی کی ہوائیں چلتی ہیں اور اس کو ہلاک کر دیتی ہیں مار دیتی ہیں۔جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے، اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے۔ہمارا یہی مذہب ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں مانگوتا اللہ تعالی تم پر اپنے فضل کی نیم چلائے۔اپنے فضل کی ہوا چلائے۔فرماتے ہیں کہ تمام رسولوں کو استغفار کی ایسی ضرورت تھی جیسے ہم کو ہے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کا فعل اس بات پر شاہد ہے۔کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی استغفار کیا کرتے تھے، جب آپ استغفار کرتے تھے تو پھر ہمیں کس قدر کرنا چاہئے۔پس یہ سنت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے kh5-030425