خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 210
خطبات مسرور جلد چهارم 210 خطبہ جمعہ 28 / اپریل 2006 ء کہ دنیا کے آخری کنارے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام دنیا کے باقی حصوں میں پہنچانے کا سامان اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔اللہ کرے کہ یہ کوشش جو ہم براہ راست خطبہ نشر کرنے کے لئے کر رہے ہیں، کامیاب بھی ہو اور یوں ہم اس پیشگوئی کو اس طرح بھی پورا ہوتے دیکھیں کہ پہلے یہ پیغام دنیا کے ان کناروں تک پہنچا اور اب دنیا کے کنارے سے پھر تمام دنیا میں پھیل رہا ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہمیں اس کا شکر گزار بنانے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کا ذریعہ بنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانے کے مسیح و مہدی ہیں جو سب جانتے ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح و مہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔آج دنیا اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح و مہدی ہیں یا نہیں۔لیکن یہ ہر کوئی پکار رہا ہے اور کہہ رہا ہے، دنیا زبان حال سے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ کوئی مصلح کوئی مہدی کوئی مسیح اس زمانہ میں ہونا چاہئے جو دنیا کو صحیح راستے پر چلا سکے۔آج دنیا اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حقیقی رنگ کو بھول چکی ہے۔نفس نے بہت سے خدا دلوں میں بٹھائے ہوئے ہیں جن کی ہر شخص پوجا کر رہا ہے۔اپنے پیدا کرنے والے کے حق کو بھلایا جا چکا ہے۔اور اس طرح نفسانفسی کا عالم ہے کہ اپنے بھائی کے حقوق چھین کر بھی اپنے حقوق قائم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔آج سینکڑوں لکھنے والے اخباروں میں لکھتے ہیں خود دوسرے مسلمان بھی یہ لکھتے ہیں کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ گیا ہے عمل نہیں۔تو یہی زمانہ تھا جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس زمانے میں میر امسیح و مہدی ظاہر ہوگا۔پس وہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان خوش قسمتوں میں شامل کیا جنہوں نے اسے قبول کیا۔کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صرف قبول کر لینا ہی کافی ہے؟ نہیں بلکہ آپ کے آنے کا ایک مقصد تھا کہ بندے کا تعلق اپنے پیدا کرنے والے خدا سے قائم کروانا ہے۔اور پیدا کرنے والے خدا اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حق ادا کرنا ہے۔تا کہ ان دونوں طرح کے حقوق کی ادائیگی سے ہم اپنے پیدا کرنے والے خدا کی رضا حاصل کرنے والے بن سکیں اور یوں اس دنیا میں بھی اس کے فضلوں کو سمیٹیں یا سمیٹنے والے بنیں اور مرنے کے بعد بھی اس کی رضا کی جنتوں میں داخل ہوسکیں۔پس ہمیں آپ کی تعلیم کی روشنی میں جو دراصل حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعلیم ہے جس کو لوگ بھلا بیٹھے ہیں ، اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: kh5-030425