خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 195
خطبات مسرور جلد چهارم 195 خطبہ جمعہ 14/ اپریل 2006 ء بے شمار دعائیں ہیں جو آپ نے کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ میں ترقی دے، ایمان میں ترقی دے، نفاق سے پاک کرے تو یہ صرف اتفاق نہیں ہے۔اب میں سمجھتا ہوں 100 سال کے بعد بیرون ہندوستان کے پہلے موصی کے ملک میں یہ میرا دورہ ہے اور اس سے پہلے میں وصیت کرنے کی تحریک بھی کر چکا ہوں۔یہاں آنے سے پہلے مجھے علم بھی نہیں تھا کہ یہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نظام وصیت کا پہلا پھل آج سے 100 سال پہلے لگ چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں یہ پھل لگا اور آج سے پورے 100 سال پہلے ایک ایسا کامیاب پھل تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے تسلی بھی کروائی کہ تمہارا انجام بھی بخیر ہوگا۔تو کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ بیرون پاکستان اور ہندوستان نظام وصیت کی طرف توجہ اس ملک کے احمدیوں کو اس لحاظ سے بھی خاص طور پر کرنی چاہئے کہ وہ ایک شخص تھا یا چند ایک اشخاص تھے جو یہاں رہتے تھے ان میں سے ایک نے لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر وصیت کے نظام میں شمولیت اختیار کی۔آج آپ کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل بھی بہت زیادہ ہیں اور 100 سال بعد اور تقریباً اس تاریخ کو 100 سال بھی پورے ہو چکے ہیں اس لئے اس لحاظ سے آپ لوگوں کو جو کمانے والے لوگ ہیں جو اچھے حالات میں رہنے والے لوگ ہیں ان کو اس نظام میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور سب سے پہلے عہدیداران اپنا جائزہ لیں اور امیر صاحب بھی اس بات کا جائزہ لیں کہ 100 فیصد جماعتی عہد یداران اس نظام میں شامل ہوں، چاہے وہ مرکزی عہدیداران ہوں یا مرکزی ذیلی تنظیموں کے عہد یداران ہوں یا مقامی جماعتوں کے عہدیداران ہوں یا مقامی ذیلی تنظیموں کے عہد یداران ہوں۔گو کہ اللہ کے فضل سے مجھے بتایا گیا کہ یہاں موصیان کی تعداد کافی اچھی ہے لیکن حضرت صوفی صاحب کے حالات پڑھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ یہاں کا ہر احمدی موصی ہو اور تقویٰ پر قدم مارنے والا ہو۔یہ ایسا بابرکت نظام ہے جو دلوں کو پاک کرنے والا نظام ہے۔اس میں شامل ہو کے انسان اپنے اندر تبدیلیاں محسوس کرتا ہے۔اب سالومن آئی لینڈ ز (Soloman Islands) میں وہاں کے ایک نئے احمدی ہیں ، انہوں نے بھی وصیت کی ہے تو جس طرح نئے آنے والے اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں اور انشاء اللہ بڑھیں گے ان لوگوں کو دیکھ کر آپ لوگوں کو بھی فکر ہونی چاہئے کہ کہیں یہ پرانے احمدیوں کو پیچھے نہ چھوڑ جائیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت صوفی صاحب کو ان کے خط میں نمازوں میں دعائیں کرنے اور تہجد میں دعائیں کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ اپنے لئے بھی دعائیں کریں اور دنیا کو حق کی پہچان کی طرف توجہ دینے کے لئے بھی دعائیں کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کس قدر خوشی ہوتی تھی کہ کسی سعید روح کو حق پہنچے حق کو پہچاننے کی توفیق ملے اور پھر آگے اس پیغام کو دوسروں تک kh5-030425