خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 161
161 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم دینے والے ہوں۔تو میں کہہ یہ رہا تھا کہ اگر بعض نمائندگان اس معیار کو مدنظر رکھے بغیر بھی چنے گئے ہیں وہ بھی اب میری یہ بات سن کر استغفار کرتے ہوئے اپنے آپ کو تقویٰ پر چلاتے ہوئے اس امانت کی ادائیگی کا اہل بنانے کی کوشش کریں۔یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اس لئے اس پر چلتے ہوئے اگر آپ عمل کریں گے تو اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچارہے ہوں گے۔پس ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک امانت ہے جس کی ادائیگی کا آپ کو حق ادا کرنا ہے۔اس نمائندگی کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں کہ تین دن کے لئے ایک جگہ جمع ہو گئے ہیں کچھ باتیں سن لیں کچھ دوستوں سے مل لئے اور بس، صرف اتنا کام نہیں ہے، ان کا بڑا وسیع کام ہے۔پھر نمائندگان یہ بھی یاد رکھیں کہ جب مجلس شوری کسی رائے پر پہنچ جاتی ہے اور خلیفہ وقت سے منظوری حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کو جماعتوں میں عملدرآمد کرنے کے لئے بھجوا دیا جاتا ہے۔تو یہ نمائندگان کا بھی فرض ہے کہ اس بات کی نگرانی کریں اور اس پر نظر رکھیں کہ اس فیصلے پر عمل ہورہا ہے یا نہیں ہور ہا اور اس طریق کے مطابق ہو رہا ہے جو طریق وضع کر کے خلیفہ وقت سے اس کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔یا بعض جماعتوں میں جا کر بعض فیصلے عہد یدار ان کی بستیوں یا مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں۔اگر تو ایسی صورت ہے تو ہر نمائندہ شوری اپنے علاقے میں ذمہ دار ہے کہ اس پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرے اپنے عہدیداران کو توجہ دلائے ، جیسا کہ میں نے کہا کہ ان کے معاون کی حیثیت سے کام کرے۔ایک کافی بڑی تعداد عہدیداران کی نمائندہ شوری بھی ہوتی ہے۔وہ اگر کسی فیصلے پر عمل ہوتا نہیں دیکھتے تو اپنی عاملہ میں اس معاملے کو پیش کر کے اس پر توجہ دلائیں۔نمائندگان شوریٰ چاہے وہ انتظامی عہدیدار ہیں یا عہد یدار نہیں ہیں اگر اس سوچ کے ساتھ کئے گئے فیصلوں کی نگرانی نہیں کرتے اور وقتا فوقتا مجلس عاملہ میں نتائج کے حاصل ہونے یا نہ ہونے کا جائزہ نہیں لیتے تو ایسے نمائندگان اپنا حق امانت ادا نہیں کر رہے۔ہوتے۔اور اگر یہاں اس دنیا میں یا نظام جماعت کے سامنے ،خلیفہ وقت کے سامنے اگر بہانے بنا کر بیچ بھی جائیں گے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگ ضرور پوچھے جائیں گے جو اپنی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے۔پس اس اعزاز کو کسی تفاخر کا ذریعہ نہ سمجھیں۔بلکہ یہ ایک ذمہ داری ہے اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر باوجود توجہ دلانے کے پھر بھی مجلس عاملہ یا عہدیداران توجہ نہیں دیتے اور اپنے دوسرے پر وگراموں کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور شوری کے فیصلوں کو درازوں میں بند کیا ہوا ہے، فائلوں میں رکھا ہوا ہے تو پھر نمائندگان شوری کا یہ کام ہے کہ مجھے اطلاع دیں۔اگر مجھے اطلاع نہیں دیتے تو پھر بھی امانت کا حق ادا کرنے والے نہیں ہیں، بلکہ اس وجہ سے مجرم بھی ہیں۔جب بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے کسی kh5-030425