خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 160 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 160

160 خطبہ جمعہ 24 / مارچ 2006 ء خطبات مسرور جلد چهارم چنیں گے تو وہ پھر شوری کی نمائندگی کا حق بھی ادا نہیں کر سکتے۔یا ایسے لوگ جو بلا وجہ اپنی ذات کو ابھار کر سامنے آنے کا شوق رکھتے ہیں وہ بھی جب شوری میں آتے ہیں تو مشوروں سے زیادہ اپنی علمیت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔تو جماعتیں جب انتخاب کرتی ہیں تو اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کو نہ چنیں۔تو یہ ہے شوری کے ضمن میں ذمہ داری افراد جماعت کی کہ تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اپنے نمائندگان شوری چنیں نہ کہ کسی ظاہری تعلق کی وجہ سے اور جس کو چنیں اس کے بارے میں اچھی طرح پر کچھ لیں۔اس کو آپ جانتے ہوں، آپ کے علم کے مطابق اس میں سمجھ بوجھ بھی ہو اور علم بھی ہو اور عبادت گزار بھی ہو۔اور تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا بھی ہو۔اب میں نمائندگان سے بھی چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔شوری کی نمائندگی ایک سال کے لئے ہوتی ہے۔یعنی جب شوری کا نمائندہ منتخب کیا جاتا ہے تو اس کی نمائندگی اگلی شوری تک چلتی ہے جب تک نیا انتخاب نہیں ہو جاتا۔صرف تین دن یا دو دن کے اجلاس کے لئے نہیں ہوتی۔شوری کے نمائندگان کے بعض کام مستقل نوعیت کے اور عہدیداران جماعت کے معاون کی حیثیت سے کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے مستقلاً اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا جماعت کو اپنے نمائندے ایسے لوگوں کو چننا چاہئے جو ان کے نزدیک ایک تو سمجھ بوجھ رکھنے والے ہوں۔ہر میدان میں ہر ایک ماہر نہیں ہوتا، کوئی کسی معاملے میں زیادہ صائب رائے رکھنے والا ہوتا ہے یا مشورہ دے سکتا ہے، کوئی کسی معاملے میں۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ عبادت گزار ہونا چاہئے اور حقیقی عبادت گزار ہمیشہ تقویٰ پر قدم مارنے والا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کرے۔اور جہاں قرآن اور سنت کے مطابق واضح ہدایات نہ ملتی ہوں وہاں وہ اپنی سمجھ اور علم کو خدا سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کہنے کا یہ مطلب ہے کہ جب نمائندگان کو افراد جماعت اس حسن ظنی کے ساتھ منتخب کرتے ہیں تو جو نمائندگان شوری ہیں ان پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اس ذمہ داری کو ادا کریں۔ہمیشہ یا درکھیں کہ جماعت کے افراد نے آپ پر حسن ظن رکھتے ہوئے قرآن کریم کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہوئے آپ کو منتخب کیا ہے کہ تُؤدُّوا الا مَنتِ إِلَى أَهْلِهَا ﴾ (سورة النساء آیت : 59) کہ امانتیں ان کے اہل کے سپر د کرو۔خدا کرے کہ اکثریت نمائندگان جو وہاں شوریٰ میں آئے ہوئے ہیں ان کا انتخاب اسی سوچ کے ساتھ ہوا ہو اور کسی خویش پروری یا ذاتی پسند کی وجہ سے نہ ہوا ہو۔لیکن اگر بالفرض بعض ایسے نمائندگان بھی آگئے ہیں جو ذاتی تعلق کی وجہ سے منتخب ہوئے ہیں تو میں امید رکھتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے نمائندگان کو سمجھ بوجھ کے ساتھ تقویٰ پر چلتے ہوئے مشورے دینے والا بنائے اور کبھی مجھے ایسے مشیر نہ ملیں جو دنیا کی ملونی اپنے اندر رکھتے ہوئے مشورے kh5-030425