خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد چهارم 9 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء لئے بڑا ضروری ہے کہ جب اس طرح بڑی تعداد میں نو مبائعین آئیں گے تو موجودہ قربانیاں کرنے والے کہیں اس تعداد میں گم ہی نہ ہو جائیں اور بجائے ان کی تربیت کرنے کے ان کے زیر اثر نہ آجائیں۔اس لئے نو مبائعین کو بہر حال قربانیوں کی عادت ڈالنی پڑے گی اور نو مبائع صرف تین سال کے لئے ہے۔تین سال کے بعد بہر حال اُسے جماعت کا ایک حصہ بننا چاہئے۔خاص طور پر نئی آنے والی عورتوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔پھر ایک روایت میں ہے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا الشُّع یعنی بخل سے بچو۔یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا تھا۔(مسنداحمد بن حنبل جلد 2 صفحه 159 مطبوعه بيروت) پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں بخل کا بالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بڑا ہی انذار ہے اس میں۔پہلی قوموں کی ہلاکت اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تھے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پرانے احمدیوں کی بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیوں کی اہمیت کو بجھتی ہے لیکن اگر نئے آنے والوں کو اس کی عادت نہ ڈالی اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے لیت ولعل سے کام لیتے رہے تو پھر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوفناک انذار فرمایا ہے۔پس اس انعام کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی جو تو فیق دی ہے اس کا شکر بجالائیں اور آپ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کا پیغام تو پھیلنا ہی ہے یہ تقدیر الہی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔لیکن اگر تم نے کنجوسی کی تو اپنی کنجوسی کی وجہ سے تم لوگ ختم ہو جاؤ گے جس طرح کہ حدیث میں ذکر بھی ہے اور لوگ آجائیں گے۔جیسا کہ فرمایا ہے : اور جو کوئی بخل سے کام لے وہ اپنی جان کے متعلق بخل سے کام لیتا ہے۔پھر فرمایا وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُوْنُوْا أَمْثَالَكُمْ (محمد: 39) کہ اگر تم پھر جاؤ تو وہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو بدل کر لے کر آئے گا پھر وہ تمہاری طرح سستی کرنے والی نہیں ہوگی۔پس یہ مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔صحابہ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے ، مزدوریاں کیا کرتے تھے۔لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی kh5-030425