خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد چهارم 8 خطبہ جمعہ 06/جنوری 2006ء پھر اس پیغام کو پہنچانے کے لئے مالی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے نو مبائعین کو بھی شروع میں ہی عادت ڈالنی چاہئے۔اپنے آپ کو اس طرح اگر عادت ڈال دی جائے تھوڑی قربانی دے کر وقف جدید میں شامل ہوں پھر عادت یہ بڑھتی چلی جائے گی اور مالی قربانیوں کی توفیق بھی بڑھتی چلی جائے گی۔حضرت مصلح موعودرضی تعالیٰ عنہ جنہوں نے وقف جدید کی تحریک شروع فرمائی تھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ ” مجھے امید ہے کہ وقف جدید کی تحریک جس قدر مضبوط ہو گی اسی قدر اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے چندوں میں اضافہ ہوگا“۔( پیغام 3 /جنوری 1962ء) پس جماعت کی انتظامیہ کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تمام کمزوروں اور نئے آنے والوں کو بھی مالی قربانی کی اہمیت سے آگاہ کرے، ان پر واضح کرے کہ کیا اہمیت ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکموں سے ان کو آگا ہی کرائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بارے میں جو ارشادات ہیں ان سے لوگوں کو آگاہ کریں۔اگر نہیں کرتے تو پھر میرے نزدیک انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیکیوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے محروم کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا اس جہاد سے پھر نفس کے جہاد کی بھی عادت پڑے گی ، اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی ، عبادتوں کی بھی عادت پڑے گی۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار نماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے اور نماز کا آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا۔جب فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔آپ اس وقت حضرت بلال کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلال نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جارہی تھیں۔(بخاری کتاب العیدین باب موعظة الامام النساء يوم العيد حديث نمبر 978) تو یہ تھیں اس زمانے کی عورتوں کی مثالیں۔اس زمانے میں بھی ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانے میں بھی ایسی عورتیں ہیں جو بے دریغ خرچ کرتی ہیں۔حضرت مصلح موعود نے بھی کئی مثالیں دی ہیں۔خلافت ثالثہ میں بھی کئی مثالیں ہیں۔خلافت رابعہ میں بھی کئی مثالیں ملتی ہیں۔اب بھی کئی عورتیں ہیں جو قر بانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، اپنے زیورا تا ر کر دے دیتی ہیں۔تو جب تک عورتوں میں مالی قربانی کا احساس برقرار رہے گا اس وقت تک انشاء اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والی نسلیں بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتی رہیں گی۔یہ جو میں بار بار زور دیتا ہوں کہ نو مبائعین کو بھی مالی نظام کا حصہ بنائیں یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے kh5-030425