خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 151
خطبات مسرور جلد چهارم 151 خطبہ جمعہ 17 / مارچ 2006ء کی فلاح کا جو وعدہ کیا ہے، یہ تقویٰ کے ساتھ مشروط ہے۔تو اگر اپنی دنیاوی ہوا و ہوس نہ چھوڑی تو جیسا کہ آثار ہیں عراق کے بعد اب ایران پر بھی پابندیاں ہیں اور ہو سکتا ہے اور بھی سختیاں ہوں۔پھر کہتے تو یہی ہیں کہ حملہ نہیں کریں گے لیکن کوئی بعید نہیں۔پھر کسی اور ملک پر پابندیاں ہوں گی اور اس کی تباہی ہوگی۔پھر ایک ایک کر کے تمام مسلمان ملک اپنی ابتری اور تباہی کی طرف قدم بڑھا رہے ہوں گے یا کم از کم ان کی لسٹ میں ہوں گے۔اور اگر کوئی بچنے کی صورت ہوگی تو جن کے قدرتی وسائل ہیں وہ اپنے قدرتی وسائل اپنی اقتصادیات ان لوگوں کے قبضے میں دے رہے ہوں گے۔تو اسلامی دنیا کو اس طرف کسی طرح توجہ دلانے کی ضرورت ہے۔جماعت کے خلفاء نے ان کو ماضی میں بھی اس بارے میں سمجھانے کی کوشش کی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بڑی تفصیل سے سمجھایا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے 16-17 سال پہلے سمجھایا لیکن ان لوگوں نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، کوئی وقعت نہیں دی۔بلکہ دنیا کے ہر ملک میں احمدیت کی مخالفت پہلے سے زیادہ بڑھ کے ہونے لگی۔اگر ہم کوشش کریں بھی تو اب بھی شاید ہماری آواز پر کوئی توجہ نہ دے۔لیکن ہر احمدی کو دعا کے ساتھ ساتھ مسلمان امت کو سمجھانا چاہئے کہ امت کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کا ایک ہی حل ہے کہ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارتے ہوئے آپس میں ایک ہونے کی کوشش کرو۔جو بھی زرخیز ذہن کے رہنما ہیں وہ مل کر بیٹھیں اور سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ مختلف وقتوں میں جو کوششیں ہوتی رہیں کہ مسلم امہ ایک ہو جائے اور مسلمان ممالک کا خیال رکھے۔اسلامی ممالک کی تنظیم بھی قائم کی گئی لیکن پھر بھی ہر معاملے میں مغرب کے دست نگر ہیں۔نہ عرب ایک قوم بن کر عربوں کو اکٹھا کر سکے یعنی اس طرح اکٹھا ہونا جس سے ایک طاقت کا اظہار ہو۔نہ پھر بڑے دائرے میں مسلمان ممالک ایک ہو کر اپنی حیثیت منوا سکے۔اس کی کیا وجوہات ہیں۔کئی وجوہات تو پہلے بیان ہو چکی ہیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے بیان کی تھیں۔لیکن اہم وجہ جو ہے اُس طرف یہ لوگ آنا نہیں چاہتے یعنی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔اور یہ راہ اب اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانے بغیر ان کومل نہیں سکتی۔اس لئے یہ جو کہا جاتا ہے کہ اگر مسلم اُمہ تقویٰ پر چلے تو پھر اس پر اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق رحم ہو گا اور آئے دن کی زیادتیوں اور فلموں سے ان کی جان بچے گی۔لیکن یہ اگر ، بہت بڑا اگر ہے جس کی طرف جیسا کہ میں نے کہا یہ لوگ آنا نہیں چاہتے ، زمانے کے امام کو ماننے کی طرف سوچنا نہیں چاہتے۔تو احمدی کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ جہاں تک بس چلے ان کو سمجھائے کہ مسلمان ایک قوم kh5-030425