خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 120

خطبات مسرور جلد چهارم 120 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء انکے ٹی وی پروگرام میں بھی آیا تھا۔اور کوئی علیحدہ ملاقات نہیں تھی اور وہی جو ریسیپشن میں میری تقریر تھی میرے خیال میں ایم ٹی اے نے بھی دکھا دی ہے۔نہیں دکھائی تو اب دکھا دیں۔بہر حال یہ ٹھیک ہے کہ شاید وہاں تقریر میں ہی ان لکھنے والے صاحب کی طرح لوگوں کا ذکر ہوا ہو کہ یہ چند لوگ ہیں جو اسلام کو بدنام کرنے والے ہیں ورنہ مسلمان اکثریت اس طرح کے جہاد اور دہشت گردی کو نا پسند کرتی ہے۔بہر حال ہماری طرف منسوب کر کے بہت بڑا جھوٹ بولا گیا ہے۔شاید کوئی جھوٹا ترین شخص بھی یہ بات کہتے ہوئے کچھ سوچے کیونکہ آج کل تو ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے۔اور ان صاحب کے بقول اردو انگریزی اور ڈینش میں ویڈیو ٹیپ بھی موجود ہیں۔تو اگر بچے ہیں تو یہ یہیں دکھا دیں ، ہمیں بھی دکھا دیں۔پتہ چل جائے گا کہ کون بولنے والے ہیں، کیا ہیں۔بہر حال اس جھوٹی خبر پھیلانے والے کو پہلی بات تو میں یہ ہی کہتا ہوں کہ یہ سراسر جھوٹ ہے اور لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِین۔اگر تم سچے ہو تو تم بھی یہی الفاظ دو ہر ادو۔لیکن کبھی بھی نہیں دو ہرا سکتے اگر رتی بھر بھی اللہ کا خوف ہوگا۔ویسے تو ان لوگوں میں خدا کا خوف کم ہی ہے۔لیکن اگر نہیں بھی دوہراتے تب بھی اس شدت کا جھوٹ بول کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس دعا کے نیچے یہ لوگ آچکے ہیں۔بہر حال جماعت احمدیہ کے خلاف ایسی مذموم حرکتیں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں اور مسلسل ہورہی ہیں۔اور جب بھی اپنے زعم میں ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو نا کامی کا منہ دکھاتا ہے اور جماعت احمدیہ سے اپنے پیار کا وہ اظہار کرتا ہے جو پہلے سے بڑھ کر اس کا فضل لے کر آتا ہے۔جب سے یہ کارٹون کا فتنہ اٹھا ہے سب سے پہلے جماعت احمدیہ نے یہ بات اٹھائی تھی اور اس اخبار کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔اس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔پھر دسمبر ، جنوری میں ہم نے دوبارہ ان اخباروں کو لکھا تھا اور بڑا کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا ان دنوں میں میں قادیان میں تھا جب ہمارے مبلغ نے وہاں اخبار کو لکھا تھا۔ہمارے مبلغ کا اخبار میں انٹرویو شائع ہوا تھا۔تو اس اخبار نے یہ لکھنے کے بعد کہ جماعت احمدیہ کا رد عمل اس بارے میں کیا ہے اور یہ لوگ توڑ پھوڑ کی بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کو اپنی زندگی میں ڈھال کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔آگے وہ لکھتا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ( امام صاحب کا انٹرویو تھا نا کہ امام کو ان کارٹونوں سے تکلیف نہیں پہنچی بلکہ ان کا دل کارٹونوں کے زخم سے چُور ہے۔بلکہ اس تکلیف نے انہیں اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان kh5-030425