خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 713

خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد چهارم 119 خطبہ جمعہ 03 / مارچ 2006 ء آگے لکھتے ہیں کہ ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔ٹھیک ہے لیکن شرائط کے ساتھ منسوخ قراردے دیا ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلامی احکامات ( نعوذ باللہ ) تبدیل کر دیئے ہیں۔یہ سراسر اتہام اور الزام ہے۔اس لئے (آگے ذرا دیکھیں اس کی شرارت ) کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہو چکا ہے۔نعوذ باللہ۔اخبار لکھتا ہے کہ قادیانیوں کی اس یقین دہانی پر کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کار صرف سعودی عرب تک محدود ہیں، 30 ستمبر کو ڈینش اخبار نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے 12 کارٹون شائع کئے جن کا مرکزی نکتہ فلسفہ جہاد پر حملہ کرنا تھا۔اعلیٰ ڈینش افسر نے کہا کہ ہمیں جنوری کے آغاز تک اس بات کا یقین تھا کہ قادیانیوں کا دعوی سچا تھا کیونکہ جنوری تک سوائے سعودی عرب کے کسی اسلامی ملک نے ہم سے باقاعدہ احتجاج نہیں کیا تھا۔او آئی سی کی خاموشی ہمارے یقین کو پختہ کر رہی تھی۔اس ذمہ دار افسر نے اس نمائندے کو اس ملاقات کی ویڈیوٹیپ بھی سنائی۔جس میں ڈینش اردو اور انگریزی زبان میں گفتگور یکار تھی۔(روز نامہ جنگ لندن ، 02 / مارچ 2006 ، صفحہ 1 و 3) گویا اس سے باتیں تینوں زبانوں میں ہورہی تھیں۔جھوٹ کے تو کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔ایسی بے بنیاد خبر ہے کہ انتہا ہی نہیں ہے، یہ ڈاکٹر جاوید کنول صاحب شاید جنگ کے کوئی خاص نمائندے ہیں۔پہلے تو خیال تھا کہ ڈنمارک میں ہے لیکن اب پتہ لگا ہے کہ یہ صاحب اٹلی میں ہیں اور وہاں سے جنگ کی اور جیو کی نمائندگی کرتے ہیں۔اور قانو نامی و یسے بھی جو ابھی تک مجھے پتہ لگا ہے کہ ڈنمارک کے حوالے سے یہ خبر کسی اخبار میں نہیں دے سکتے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ الزام لگایا ہے کہ جماعت کا ستمبر میں جلسہ ہوا۔جماعت احمدیہ کا گزشتہ سال کا جلسہ ستمبر میں تو وہاں ہوا ہی نہیں تھا۔میرے جانے کی وجہ سے سکنڈے نیوین ممالک کا اکٹھا جلسہ ہوا تھا اور وہ سویڈن میں ہوا تھا۔اور ایم ٹی اے پر ساروں نے دیکھا کہ کیا ہم نے باتیں کیں اور کیا نہیں کیں۔ڈنمارک میں میرے جانے پر ایک ہوٹل میں ایک ریسیپشن (Reception) ہوئی تھی جس میں کچھ اخباری نمائندے، پریس کے نمائندے بھی تھے اور دوسرے پڑھے لکھے دوست بھی اس میں تھے۔سرکاری افسران بھی تھے، ایک وزیر صاحبہ بھی آئی ہوئی تھیں اور وہاں قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حوالے سے اسلام کی خوبصورت اور امن پسند تعلیم کا ذکر ہوا تھا۔اور جو کچھ بھی وہاں کہا گیا تھا وہ صاف تھا، کھلا تھا۔کوئی چھپ کے بات نہیں ہوئی تھی۔اور اخباروں نے وہاں شائع بھی کیا تھا بلکہ تھوڑا سا kh5-030425