خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 111
خطبات مسرور جلد چهارم 111 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء آپ نے ہمیں بتایا ہے۔اس لئے ہر وقت مومن کو درود بھیجنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے درود بھیجنا چاہئے۔ایک روایت میں آتا ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک دن میں ہزار بار مجھ پر درود بھیجے گا وہ اسی زندگی میں جنت کے اندر اپنا مقام دیکھ لے گا۔(الترغيب و الترهيب للمنذرى كتاب الذكر والدعاء باب الترغيب فى اكثار الصلاة على النبی جلد2 حدیث 2515 ) | تو درود کی برکت سے جو تبدیلیاں پیدا ہوں گی وہ اس دنیا کی زندگی کو بھی جنت بنانے والی ہوں گی۔اور یہی عمل اور نیکیاں اور پاک تبدیلیاں ہیں جو جہاں اس دنیا میں جنت بنا رہی ہوں گی ،اگلے جہان میں بھی جنت کی وارث بنا رہی ہوں گی۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی وہی الفاظ دہراؤ جو وہ کہتا ہے۔پھر مجھ پر درود بھیجو۔جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس گنا رحمتیں نازل فرمائے گا۔پھر فرمایا میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ مانگو یہ جنت کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندے کو ملے گا اور میں امید رکھتا ہوں کہ وہ میں ہی ہوں گا۔جس کسی نے بھی میرے لئے اللہ سے وسیلہ مانگا اس کے لئے شفاعت حلال ہو جائے گی۔صلى الله (مسلم کتاب الصلواۃ باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلى على النبي علم حدیث (384) پس یہ جو اذان کے بعد کی دعا ہے اس کو ہر احمدی کو یاد کرنا چاہئے اور پڑھنا چاہئے۔درود بھیجنے کی اہمیت اور درود کے فوائد تو واضح ہو گئے لیکن بعض لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کس طرح درود بھیجیں۔مختلف لوگوں نے مختلف درود بنائے ہوئے ہیں۔لیکن اس بارے میں ایک حدیث ہے۔حضرت کعب مجرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! آپ پر سلام بھیجنے کا تو ہمیں علم ہے مگر آپ پر درود کیسے بھیجیں۔فرمایا کہ یہ کہو کہ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔وَ بَارِكُ عَلَى مُحَمَّدٍ وعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيْدٌ۔صلى الله (ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء فى صفة الصلواة على النبي عل (483) kh5-030425