خطبات مسرور (جلد 4۔ 2006ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد چهارم 108 خطبہ جمعہ 24 فروری 2006ء وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ شخص ہوگا جو ان میں سے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا۔صلى الله (ترمذی ابواب الوتر باب ما جاء في فضل الصلواة على النبى علم حدیث نمبر (484) پھر فرمایا: جو شخص دلی خلوص سے ایک بار درود بھیجے گا اس پر اللہ تعالیٰ دس بار درود بھیجے گا اور اسے دس درجات کی رفعت بخشے گا اور اس کی دس نیکیاں لکھے گا اور دس گناہ معاف کرے گا۔(کنز العمال كتاب الاذكار باب السادس في الصلاة عليه وعلى آله عليه الصلوة و السلام، حدیث نمبر 2220 اب دیکھیں دلی خلوص شرط ہے۔بہت سے لوگ دعائیں کرنے یا کروانے والے یہ لکھتے ہیں کہ ہم دعا ئیں بھی بہت کر رہے ہیں آپ بھی دعا کریں اور در دو بھی پڑھتے ہیں لیکن لمبا عرصہ ہو گیا ہے ہماری دعائیں قبول نہیں ہور ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ درود کس طرح بھیجو۔فرمایا کہ صَادِقٌ مِّنْ نَّفْسِهِ (جلاء الافہام صفحہ 73 بحوالہ عبدالباقی بن قانع) اس طرح بھیجو کہ خالص ہو جاؤ۔درود بھیجتے ہوئے ہر کوئی اپنے نفس کو ٹولے، اپنے دل کو ٹولے کہ اس میں دُنیا کی کتنی ملونیاں ہیں اور کتنا خالص ہو کر درود بھیجنے کی طرف توجہ ہے۔کتنا خالص ہو کر درود بھیجا جا رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور احسان کو مدنظر رکھ کر اور آپ کے مدا راج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 38 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ہیں درود بھیجنے کے طریقے۔پھر آپ نے فرمایا کہ: (اے لوگو!) اس محسن نبی پر درود بھیجو جو خداوند رحمن و منان کی صفات کا مظہر ہے۔کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہی ہے اور جس دل میں آپ کے احسانات کا احساس نہیں اُس میں یا تو ایمان ہے ہی نہیں اور یا پھر وہ ایمان کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔اے اللہ ! اس اُمی رسول اور نبی پر درود بھیج جس نے آخرین کو بھی پانی سے سیر کیا ہے۔جس طرح اس نے اولی کو سیر کیا اور انہیں اپنے رنگ میں رنگین کیا تھا kh5-030425