خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 749 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 749

خطبات مسرور جلد سوم 749 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء سیٹیلائٹ استعمال ہونا تھا ، وہ بھی پریشان تھے کیونکہ ان کی کچھ چیزیں استعمال ہوئی تھیں اور ان کے سیٹلائٹ کے ذریعہ سے رابطہ ہونا تھا اور یہی خیال تھا کہ 16 دسمبر کا خطبہ Live نہیں جا سکے گا۔البتہ اس کمپنی نے ہمیں یہ آفر دی کہ ہم اپنے نام کے ساتھ بھیج دیتے ہیں۔اس میں قانونی طور پر کچھ حرج بھی نہیں ہو گا، بہت سارے ٹی وی چینلز دو دو ناموں کے ساتھ اپنے پروگرام ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں، نشر کرتے ہیں۔لیکن اس صورت میں یہ خیال ضرور آیا کہ ابھی تک ایم ٹی اے نے جو اپنی انفرادیت قائم رکھی ہوئی ہے کہ صرف ایم ٹی اے کے نام ، نشان اور لوگو (Logo) کے ساتھ دنیا میں ہمارے سارے پروگرام چلتے ہیں، خاص طور پہ جلسوں کے پروگرام، تو اس میں تو ایک اور ٹی وی چینل کا نام بھی آ جائے گا۔بہر حال 14 دسمبر تک سب پر مایوسی تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات بدلے، سرکاری محکموں سے ایک دن پہلے تک یہی جواب ملا تھا کہ اس میں ابھی وقت لگے گا اتنی جلدی نہ کریں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا 14 دسمبر کو ایسے حالات بدلے کہ اسی دن دو پہر کو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے اجازت نامہ مل گیا۔اور 16 دسمبر کا خطبہ لائیو (Live) ہر ایک نے سنا۔پھر اگلا خطبہ ہوا پھر جلسے کے پروگرامز ہوئے جو یقینا اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اس وعدے کی ایک بار اور بڑی شان سے پورے ہونے کی دلیل ہے کہ ”میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا ، میں تیرے ہر کام کو سنواروں گا۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دیئے کہ جو کام مہینوں سے نہیں ہو رہا تھا وہ چند منٹوں میں ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی یہ تائیدات ہمیں اس طرف مزید توجہ دلاتی ہیں کہ ہم اس کے آگے اور زیادہ جھکنے والے اور شکر ادا کرنے والے بنیں۔اسی طرح اس سلسلے میں ہمیں اس کمپنی کا بھی شکر گزار ہونا چاہئے جنہوں نے اس سلسلے میں ہم سے مکمل تعاون کیا۔پھر ایم ٹی اے کا سٹاف جو تقریباً تمام والنٹیئرز ہیں۔کچھ لندن سے آئے تھے، کچھ یہاں کے تھے، کچھ معاونین پاکستان سے آئے تھے ان سب نے اچھی طرح کام کیا، اپنے اپنے فرائض ادا کئے۔بہر حال یہ اپنی نوعیت کا ایک خاص چینل ہے جو تقریب والنٹیئر ز سے چلتا ہے۔یعنی زیادہ تر وہی ہیں۔لندن میں تو بہت بڑی تعداد میں والنٹیئرز ہیں، ایسے کارکنان ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے