خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 748
خطبات مسرور جلد سوم 748 خطبہ جمعہ 30 دسمبر 2005ء آغاز فرمایا تھا، 100 سال سے زائد عرصہ کے بعد آج بھی وہ تائیدات شامل ہونے والوں کے چہروں پر نظر آ رہی ہیں، ان دعاؤں کی قبولیت کے نشان نظر آ رہے ہیں۔ایک خاتون جنہوں نے چند سال پہلے بیعت کی تھی پاکستان سے آئی ہوئی تھیں اور اداس بیٹھی تھیں۔اُن سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ بڑی خاموش بیٹھی ہیں تو کہنے لگیں کہ پہلی دفعہ جلسے میں شامل ہوئی ہوں، ماحول ہی کچھ ایسا ہے، اپنے اندر ایک عجیب قسم کی روحانیت محسوس کر رہی ہوں، اپنے اندر ایک تبدیلی محسوس کر رہی ہوں اور کیونکہ اب واپس جانا ہے اس لئے اداس بھی ہو رہی ہوں۔تو یہ ایک آدھ نہیں نئے آنے والوں میں ایسی سینکڑوں، ہزاروں مثالیں ملتی ہیں۔بہر حال میں بتا رہا تھا کہ جلسے کی برکات سے آپ جو یہاں شامل ہیں نے فائدہ اٹھایا ہے وہ تو ہے ہی، اللہ تعالیٰ نے ایم ٹی اے کی نعمت سے جو ہمیں نوازا ہے اور جو انعام عطا فرمایا ہے اس کی بدولت دنیا کے کونے کونے میں احمدیوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کے عظیم الشان نظارے دیکھے ہیں۔دنیا کے کونے کونے سے لوگوں کی فیکسز آ رہی ہیں کہ ہم نے وہاں ایک خاص ماحول دیکھا جس کا دور بیٹھے، ایم ٹی اے کو دیکھ کر ، ہم پر بھی خاص اثر ہورہا تھا۔پھر ایم ٹی اے کے ذریعہ سے یہاں سے Live ٹرانسمیشن کا میتر آ جانا بھی اللہ تعالیٰ کے خاص فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔یہاں بھی اور باہر بیٹھے ہوئے احمدی بھی سمجھتے ہیں کہ بس اس نئی ایجاد سے بڑی آسانی سے فائدہ اٹھا لیا ہے۔یہاں سے سگنل سیٹیلائٹ کے ذریعہ سے بھیج دیا اور وہاں سے ایم ٹی اے سٹوڈیو نے لے کر آگے دنیا میں پھیلا دیا۔بظاہر تو یہ اسی طرح ہے۔لیکن ہر ملک کے کچھ قوانین ہیں اور یہاں کے قوانین کے مطابق کافی فارمیلیٹیز (Formalities) سے گزرنا پڑتا ہے۔باوجود اس کے کہ ہم نے کئی مہینے پہلے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا تھا۔ایک کمپنی سے ٹھیکہ بھی ہو گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی مناسب قیمت پر ہوا تھا۔لیکن قانون کے مطابق بعض سرکاری محکموں سے اجازت لینی بھی ضروری تھی جو میرے یہاں بھارت پہنچنے کے بعد تک نہیں ملی تھی۔ہماری انتظامیہ بھی پریشان تھی اور جس کمپنی سے ٹھیکہ ہوا تھا اور جن کا