خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 733 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 733

خطبات مسرور جلد سوم 733 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء ہر خیر ان کا مقدر کر دے۔سفر کئی طرح کے ہوتے ہیں لیکن بہت ہی بابرکت ہے وہ سفر جو دینی اور روحانی اغراض کے لئے کیا جائے۔اس لئے جہاں بہت سے لوگوں کو دعاؤں کا موقع مل رہا ہوگا اپنے ساتھ ان سب کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں جو یہاں آ رہے ہیں، سفر میں ہیں یا آنے کی خواہش اور تڑپ رکھتے ہیں لیکن بعض مجبوریوں کی وجہ سے آ نہیں سکے۔جلسے کی مناسبت سے میں یہاں کے رہنے والوں، کارکنوں اور مہمانوں کو چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال ایسے مہمان بھی یہاں آئے ہیں جو بڑی کوشش کر کے دور دراز علاقوں سے یا دوسرے ملکوں سے یہاں آئے ہیں یا آ رہے ہیں۔میرے یہاں آنے کی وجہ سے بعض ایسے لوگ بھی آئے ہیں اور مجھے ملے ہیں جو صحت کی کمزوری یا دوسری روکوں کے با وجود راستے کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی نیک خواہشات کو اور تمناؤں کو اور دعاؤں کو جن کو لے کر وہ یہاں آئے ہیں قبول فرمائے۔یہ سب لوگ بڑے پیار اور خلوص سے مل رہے ہیں۔آنکھوں میں پہچان اور شدت کے جذبات ہیں اور یہ جذ بات بالکل نئے احمدیوں میں بھی ہیں جنہوں نے ایک دو سال پہلے بیعت کی ہے۔یوں لگتا ہے کہ جیسے صدیوں کے بچھڑے ملے ہوں۔یہ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیاری جماعت کی خلافت سے محبت کی وجہ سے ہے۔یہ حالت دیکھ کر ، آپ لوگوں کے، مہمانوں اور یہاں کے رہنے والوں کے اخلاص و وفا اور تعلق کو دیکھ کر بے اختیار اللہ تعالیٰ کی اس پیاری جماعت پر پیار آتا ہے۔احمدیوں کی یہاں چھوٹی سی جگہ ہے، یہاں کی احمدی آبادی کے جس گلی کوچے میں جاؤ نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر کی صدا گونج رہی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ حقیقت میں اپنی کبریائی ہر احمدی کے دل میں راسخ کر دے۔جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی بڑائی کی حقیقت کو پائے رکھیں گے اس وقت تک راستے کی کوئی روک ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔پس ان دنوں میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹتے ہوئے اپنے رب کی پہچان، فہم و ادراک اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کے مطابق