خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 732
خطبات مسرور جلد سوم 732 خطبہ جمعہ 23 / دسمبر 2005ء حملوں سے بچنے کی کوشش کرو۔اپنے اندر زہد اور تقویٰ پیدا کرو۔خدا ترسی کی عادت ڈالو۔آپس میں محبت، پیار اور بھائی چارے کے تعلقات پیدا کرو۔کیونکہ یہ آپس کے معاشرے کے تعلقات خدا تعالیٰ کا خوف اور زہد و تقویٰ پیدا کرنے کے لئے بھی ضروری ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے بھی ضروری ہیں۔شیطان کے حملوں سے بچنا، اپنے بھائیوں کے حقوق ادا کرنا یہ سب چیزیں اُس وقت ہوں گی جب افراد جماعت عاجزی کے بھی اعلیٰ معیار قائم کر رہے ہوں گے اور سچائی کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہوں گے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے اور اس کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کے بھی اعلیٰ معیار قائم ہوں گے۔تو یہ ہے خلاصہ ان مقاصد کا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جلسہ سالانہ منعقد کر کے حاصل کرنا چاہتے تھے۔اور یہ مقاصد ہم اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا نہیں ہوتا ، اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے کی روح اور تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔اب یہاں جلسے کی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے، رونقیں شروع ہو گئی ہیں۔باہر سے آنے والا ہر مہمان اور یہاں کا رہنے والا ہر شخص صرف اس رونق کو دیکھ کر اور بازاروں میں پھر کر خوش نہ ہو بلکہ ابھی سے جلسے کے استقبال کے لئے جو ایک لحاظ سے شروع بھی ہو چکا ہے دعاؤں میں مشغول ہو جائے۔ہر ایک اس جلسے کی برکات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس جلسے میں شامل ہونے والوں کے لئے کی گئی دعاؤں کا وارث بننے کے لئے دعاؤں میں مصروف ہو جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ ان برکات کو سمیٹ سکے۔نیز جلسے کے ہر لحاظ سے کامیاب ہونے اور اللہ تعالیٰ کی خاص تائیدات اور رحمتوں اور فضلوں کے نازل ہونے کے لئے بھی دعائیں کریں۔جو لوگ اس مقصد کے لئے سفر اختیار کر کے آ رہے ہیں ان کے خیر و عافیت سے یہاں پہنچنے کے لئے دعا کریں۔دنیا کے مختلف ممالک سے لوگ آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے ان کا حافظ ہو۔بھارت کے دُور دراز علاقوں سے لوگ آرہے ہیں یا آنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن مخالفین کی بعض حرکات کی وجہ سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان بے چارے غریب لوگوں کے لئے دعا کریں، بڑی تکلیف اٹھا کر جلسے میں شامل ہونے کے لئے آرہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں سفر کے ہر شر سے بچائے اور