خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 66
خطبات مسرور جلد سوم 66 خطبہ جمعہ 14 فروری 2005ء بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو بادشاہ بنادیں گے اور یہ جو آپ کے پاس کوئی جن یا آسیب آتا ہے تو ہم اس کے علاج میں اپنے تمام مال آپ پر خرچ کرنے کو تیار ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس قدر باتیں تم نے کی ہیں ان میں سے ایک بھی مجھ میں نہیں ہے۔نہ میں مال چاہتا ہوں، نہ شرف چاہتا ہوں ، نہ سلطنت چاہتا ہوں۔مجھ کو تو خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اپنی کتاب مجھ پر نازل فرمائی ہے اور حکم فرمایا ہے کہ میں تمہارے لئے بشیر و نذیر ہو جاؤں۔خوشخبریاں بھی دوں اور ڈراؤں بھی۔پس میں نے تم کو اپنے خدا کے پیغام پہنچا دیئے۔اگر تم اس کو قبول کرو تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔اور اگر تم قبول نہ کرو تو تم اس وقت تک صبر کرو، میں بھی صبر کئے ہوئے ہوں، جب تک کہ خدا مجھ میں اور تم میں فیصلہ نہ فرمائے۔(السيرة النبوية لابن هشام حديث عبدالله بن ابى امية مع رسول الله ﷺ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا اور کامل یقین تھا کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کا آخری فیصلہ یقینا آپ کو پتہ تھا کہ میرے حق میں ہونا ہے۔تو فرمایا کہ اے کا فرو! تم اپنی ڈھٹائی کی وجہ سے اپنے جھوٹے دین سے ہٹ نہیں سکتے یا يُّهَا الْكَافِرُونَ ﴾ کی سورة میں ساری بات آگئی تو میں جو خدا کا نبی ہوں، اس خدا کا پیغام پہنچانے سے کیسے باز آ جاؤں جس کا خدا نے مجھے حکم دیا ہے۔میں اس خدا کی عبادت سے کیسے باز آ جاؤں جو ہر روز ایک نیا نشان اپنی قدرت کا مجھے دکھاتا ہے۔جو تمہارے مقابلے میں خود میری حفاظت کے لئے کھڑا ہے۔تم بے شک میری مخالفت کرتے رہو، مجھے تکلیفیں دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو، لیکن یاد رکھو کہ غالب میں نے ہی آنا ہے۔تمہیں یہی جواب ہے جو فی الحال خدا نے مجھے سکھایا ہے کہ تم اپنے دین پر قائم رہو، میں اپنے دین پر قائم رہوں گا۔لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِی دِین ، لیکن یا درکھو یہ مقدر ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کر لیا ہے، میرے خدا نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جو حاضر کا بھی علم رکھتا ہے، جو غائب کا بھی علم رکھتا ہے، آئندہ کا بھی علم رکھتا ہے، جو اپنے پیار کا مجھ پر اظہار کرتا رہتا ہے اُس خدا کی تقدیر اب یہ ہے کہ خدائے واحد کے دین نے ہی غالب آنا ہے اور تم نے ختم ہونا ہے۔تو یہ جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار کرنے والے اور اپنے پیارے کے منہ سے کہلوایا۔