خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 65
خطبات مسرور جلد سوم 65 خطبہ جمعہ 4 فروری 2005ء نہیں پڑتا۔یہی حال ابو جہل کا ہوا۔پھر جب عاشق کو معشوق سے علیحدہ کرنے کیلئے تمام تر سختیوں کے حربے بھی کارگر نہ ہوئے تو پھر ان لوگوں کو خیال آیا کہ دنیاوی لالچ ہی دے کر دیکھیں۔براہ راست بھی اس بارے میں گفتگو کر کے دیکھیں۔لیکن ان عقل کے اندھوں کو کیا پتہ تھا کہ جو خدا تعالیٰ کے عشق میں گرفتار ہو اور پھر مقام بھی وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے اُس کو ان دنیاوی لالچوں سے کیا غرض۔چنانچہ یہ لالچ دینے کا واقعہ تاریخ میں یوں درج ہے۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب اسلام قریش میں روز بروز ترقی کرنے لگا، حالانکہ قریش سے جہاں تک ممکن تھا وہ لوگوں کو اسلام لانے سے باز رکھتے تھے اور طرح طرح سے ان کو ایذاء اور تکلیفیں پہنچاتے تھے۔بعض کو گھروں میں قید کر دیتے تھے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہر قبیلہ کے سرداران قریش حضور سے گفتگو کرنے کے واسطے جمع ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔عتبہ، شیبہ، ابوسفیان ، نضر بن حارث، ابوالبختری ابوجہل بن ہشام ، عبداللہ بن ابی امیہ، عاص بن وائل ، امیہ بن خلف وغیرہ یہ سب لوگ غروب آفتاب کے بعد کعبہ کے پیچھے اکٹھے ہوئے اور ایک نے دوسرے کو کہا کہ کسی کو بھیج کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گفتگو کے لئے بلواؤ اور اس قدر بحث کرو کہ وہ عاجز آ جائیں۔پھر انہوں نے ایک شخص کو حضور کے پاس بھیجا۔آپ نے یہ پیغام سن کر سمجھا کہ شاید ان کا سیدھے رستے پر آنے کا ارادہ ہے۔کیونکہ آپ کو ان کے اسلام قبول کرنے کی شدید تمنا تھی۔چنانچہ آپ جلدی سے اس مجلس میں تشریف لائے۔سب نے متفقہ طور پر آپ سے کہا کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے آپ کو گفتگو کرنے کے لئے بلایا ہے کیونکہ قسم ہے خدا کی ہم عرب میں سے کسی شخص کو ایسا نہیں جانتے کہ جس نے اپنی قوم کو ایسی مشکل میں مبتلا کیا ہو جیسا کہ آپ نے مبتلا کیا ہے۔آپ ہمارے باپ دادا کو برا کہتے ہیں، آپ ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتے ہیں ، ہماری جماعت کے ٹکڑے کر دیئے ہیں، کوئی خرابی ایسی نہیں ہے جو آپ نے ہم میں اٹھانہ رکھی ہو۔اگر تمہارا مقصد مال کو جمع کرنا ہے تو ہم اپنے مال اس قدر آپ کی نذر کرتے ہیں کہ آپ ساری قوم میں امیر کبیر ہو جائیں گے۔اور اگر آپ سردار بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو سردار بنادیتے ہیں۔اگر