خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 706 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 706

خطبات مسرور جلد سوم 706 خطبہ جمعہ 2 / دسمبر 2005ء سوچنا کہ چلو کوئی بات نہیں اگر اس حکم پر عمل نہ کیا تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایک دوسری جگہ آپ نے فرمایا کہ جوان حکموں پر عمل نہیں کرتا اور ان میں سے ایک کو بھی چھوڑتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔آپ لوگ جو اس چھوٹے سے جزیرے میں رہتے ہیں یہاں بھی کسی حد تک ہر مذہب والے کا کچھ نہ کچھ مذہب سے تعلق قائم ہے۔لیکن جس تیزی سے دنیا ایک ہو رہی ہے یہاں بھی بہت سی دوسری قوموں کا آنا جانا ہو گیا ہے جو مذہب سے دور ہٹتے جا رہے ہیں۔پھر اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے نئی نسل کے بہت سے لڑکے اور لڑکیاں باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں۔مختلف نظریات اور فلسفے ان بچوں کو سننے کو ملتے ہیں جو خدا سے دور لے جانے والے ہیں، جو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے دور لے جانے والے ہیں۔اس لئے یا درکھو ہمیشہ ایسے نظریات اور فلسفوں سے بچو جو تمہیں خدا سے دور لے جانے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم میں ایسے فلسفوں کو رد کرنے کی تمہیں دلیل مل جائے گی اس لئے کسی بھی قسم کا احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔آپ نے فرمایا جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنے ماں باپ کی ہدایت پر عمل کرتا ہے، تم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرو۔لیکن یاد رکھیں کہ ان حکموں پر عمل کرنے کے لئے قرآن کریم پڑھنے اور اس کو سمجھنے کی طرف بھی توجہ کرنی پڑے گی۔پس نیکیاں اپنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بھی پڑھنا ہو گا اور اس کے فضلوں کو بھی سمیٹنا ہو گا۔اور اس کے فضلوں کو سمیٹنے کے لئے بہترین ذریعہ نماز ہے۔اس لئے نمازوں کی طرف توجہ دو اور نمازیں صرف دکھاوے کے لئے یا کسی وجہ سے وقتی جوش سے نہ ہوں۔بلکہ جس طرح آج کل میں دیکھ رہا ہوں مسجد بھری ہوتی ہے آپ کی تمام مسجد میں بھری ہوں اور ہمیشہ بھری رہنے والی ہوں۔ایک بات مجھے آپ کی بہت اچھی لگی ہے کہ آپ نے مسجدیں بنانے کی طرف توجہ دی ہے اور بہت چھوٹی چھوٹی جگہوں پر بہت خوبصورت مسجدیں بنائی ہیں۔لیکن ان مسجدوں کو نیک اور پاکباز نمازیوں سے بھرنا ہے۔عمارتیں بنانا ہمارا مقصد نہیں بلکہ عبادالرحمان پیدا کرنا ہمارا مقصد ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نمازیں پڑھو گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل