خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 699
خطبات مسرور جلد سوم 699 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء میں قانون بن گیا ہے کھانا نہیں کھلانا اور ایسی دعوت نہیں کرنی لیکن پھر بھی کچھ لوگ اس کام کو کرتے ہیں اور پھر مختلف طریقے نکال لئے ہیں۔جب کہا جائے کہ اخراجات تو توفیق اور حیثیت کے مطابق ہونے چاہئیں تو جواب یہی ہوتا ہے کہ صرف ایک کھانا پکا یا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ دھوکا نہیں ہے۔اگر توفیق نہیں تو نہیں کرنا چاہئے یہ کام۔پھر قانون کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔یا گھر میں سادہ سا جو بھی توفیق ہو اس کے مطابق اتنے آدمیوں کو بلا کر کھلایا جائے۔اسی طرح بعض صاحب حیثیت جو ہیں وہ اپنی شادیوں پر بلا وجہ کھانوں کا ضیاع کر رہے ہوتے ہیں۔آٹھ دس قسم کے سالن تیار کئے ہوتے ہیں جو کھائے تو جاتے نہیں، ضائع ہو رہے ہوتے ہیں۔ان میں بہت سے یہاں یورپ سے جانے والے بھی شامل ہیں جو جا کر اپنی شادیاں کرتے ہیں یا اپنے عزیزوں کی شادیاں کرتے ہیں دکھاوے کی خاطر کہ ہم یورپ سے آ رہے ہیں۔اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کھانا پھر بچ جاتا ہے وہ غریبوں میں بھی تقسیم نہیں ہوسکتا که چلو کسی غریب کے کام آ جائے تب بھی کوئی بات ہے۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ اگر اتنی کشائش ہے کہ اتنے کھانے پکا سکتے ہیں اور خرچ بھی کر سکتے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا تھا غریبوں کی شادیوں پر خرچ کرنے کے لئے چندہ دے دیں۔پھر عام طور پر غیر معمولی سجاوٹیں کی جاتی ہیں اس کے لئے کوشش ہو رہی ہوتی ہے۔بعض لوگ ربوہ میں شادی کرنے والے اس احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔یہاں سے، باہر سے جانے والے بھی اور ربوہ کے رہنے والے بھی شاید ہوں، رہنے والوں کے پاس تو کم ہی پیسہ ہوتا ہے اس لئے وہ تو اس طرح نہیں کرتے ایک آدھ کے علاوہ، کہ شادی کا انتظام کرنے کے لئے جو لوگ موجود ہیں، جو کاروبار کرتے ہیں ان سے کام کروانے کی بجائے یا ان سے کھانے پکوانے کی بجائے ،باہر سے، لا ہور وغیرہ سے منگوائے جاتے ہیں کہ زیادہ اعلیٰ انتظام ہوگا۔ٹھیک ہے ہر ایک کی اپنی اپنی پسند ہے اس کے مطابق کریں۔لیکن کسی احساس کمتری کے تحت یہ کام نہیں ہونا چاہئے۔احمدی میں اس قسم کا دکھاوے کے لئے احساس کمتری بالکل نہیں ہونا چاہئے بلکہ کسی قسم کا بھی احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔یہی طوق ہیں جو گردنوں کو جکڑے ہوئے ہیں۔