خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 695 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 695

خطبات مسرور جلد سوم 695 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء پھر شادی بیاہوں میں مہر مقرر کرنے کا بھی ایک مسئلہ ہے۔یہ بھی رہتا ہے ہر وقت۔اور اگر کبھی خدانخواستہ کوئی شادی ناکام ہو جائے تو پھر لڑکے کی طرف سے اس بارے میں لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پھر ان کے خلاف ایکشن بھی ہوتا ہے۔اس لئے پہلے ہی سوچ سمجھ کر مہر رکھنا چاہئے دنیا کے دکھاوے کے لئے نہ رکھنا چاہئے بلکہ ایسا ہو جو ادا ہو سکے۔ایسا مہر مقرر نہ ہو، جیسا کہ میں نے کہا،صرف دکھاوے کی خاطر ہوا اور پھر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والا ہو۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے انصار کی ایک عورت کو شادی کا پیغام بھجوایا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ کیا تم نے اسے دیکھ لیا ہے کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کوئی چیز ہوتی ہے۔اس نے کہا میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔آپ نے فرمایا تو مہر کیا رکھ رہے ہو؟ اس نے کہا چاراوقیہ چاندی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا چار اوقیہ؟ سوال کیا۔چار اوقیہ گو یا تم اس پہاڑ کے گوشے سے چاندی کھود کر اسے دو گے۔ہمارے پاس اتنا نہیں ہے جو ہم تجھے دیں لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ہم تمہیں کسی مہم پر بھجوا دیں وہاں سے تم کچھ مال غنیمت حاصل کر لو۔پھر آپ نے ایک دستہ بنی عبس کی طرف بھجوایا تو اس شخص کو اس میں شامل کیا۔(مسلم کتاب النکاح باب ندب من اراد نكاح امرأة الى ان ينظر الى وجهها ) تو دیکھیں مہر کے بارے میں بھی آپ نے یہ پسند نہیں فرمایا کہ طاقت سے بڑھ کر ہو۔جو اس کی حیثیت کے مطابق نہیں تھا تو کہا یہ بہت زیادہ ہے۔اور پھر یہ بھی پتہ تھا کہ آپ سے مانگے گا، نظام سے درخواست کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا کہ مہم پر جاؤ مال غنیمت مل گیا تو اس سے اپنا مہر ادا کر دینا اور یہی بات ہے کہ مہر جو ہے سوچ سمجھ کر رکھنا چاہئے جتنی توفیق ہو جتنی طاقت ہو۔مہر ایک ایسا معاملہ ہے جس کی وجہ سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔قضاء میں بہت سارے کیس آتے ہیں۔ایسے موقعوں پر تو بڑی عجیب صورت پیدا ہو جاتی ہے۔شادی سے پہلے لڑکی والے لڑکے کو باندھنے کی غرض سے زیادہ مہر لکھوانے کی کوشش کرتے ہیں اور شادی کے بعد