خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 694 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 694

خطبات مسرور جلد سوم 694 خطبہ جمعہ 25 /نومبر 2005ء انہوں نے غلام کی درخواست کی کہ ہاتھ میں چھالے پڑ گئے ہیں تو آپ نے یہی فرمایا تھا کہ خود ہاتھ سے کام کرو اور بہت سارے مسلمان ہیں جن کو تمہارے سے زیادہ ضرورت ہے۔تو بہر حال اپنے گھر سے ہی انہوں نے سادگی کی تعلیم دی اور تلقین کی۔میں یہ نہیں کہتا کہ اس طریقے کے مطابق دو تکئے دینے چاہئیں لیکن ایک مثال ہے سادگی کی سادہ رہنا چاہئے اور بلا وجہ بوجھ ڈال کر اپنی گردنوں پر قرضوں کے طوق نہیں ڈالنے چاہئیں۔سادگی اور وسائل کے اندر رہتے ہوئے جو میسر ہو ، جو رسم و رواج ہیں اس وقت کے اس کے مطابق یہ فرض پورا کرنا چاہئے۔شادی کا بھی حق ادا کرنا چاہئے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کا بھی حق ادا کرنا چاہئے لیکن اپنے وسائل کے اندر رہ کے۔اس ضمن میں یہ ذکر کر دوں کہ اللہ کے فضل سے مریم شادی فنڈ سے بہت سی بچیوں کی شادیاں کی جاتی ہیں لیکن بعض دفعہ جن کی مدد کی جاتی ہے ان کا یہ بار بار مطالبہ بھی ہوتا ہے کہ ہمیں فلاں چیز بھی بنا کر دی جائے اور فلاں چیز بھی بنا کے دی جائے یا اتنی رقم ضرور دی جائے ، اس سے کم نہیں۔تو جو چند ایک تنگ کرنے والے ہیں بعض دفعہ ضد کرنے والے، ان لوگوں کو میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو معاشرے کے رسم و رواج کے بوجھ تلے نہ لائیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ کو آزاد کروانے آئے تھے اور آپ کو ان چیزوں سے آزاد کیا اور اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر آپ اس عہد کو مزید پختہ کرنے والے ہیں۔جیسا کہ چھٹی شرط بیعت میں ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا۔یعنی کوشش ہوگی کہ رسموں سے بھی باز رہوں گا اور ہوا ہوس سے بھی باز رہوں گا۔تو قناعت اور شکر پر زور دیا۔یہ شرط ہر احمدی کے لئے ہے چاہے وہ امیر ہو یا غریب ہو۔اپنے اپنے وسائل کے لحاظ سے اس کو ہمیشہ ہر احمدی کو اپنے مد نظر رکھنا چاہئے۔اس ضمن میں امراء کو میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اب بھی یہ کہتا ہوں ، دوبارہ تحریک کر دیتا ہوں کہ مریم شادی فنڈ میں ضرور شامل ہوا کریں اور خاص طور پر جو صاحب حیثیت ہیں اور جب ان کے بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں اس وقت یہ ضرور ذہن میں رکھا کریں کہ کسی نہ کسی غریب کی شادی کروانی ہے۔و