خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 630 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 630

خطبات مسرور جلد سوم 630 خطبه جمعه 21 اکتوبر 2005ء بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ہدایت پانی ہے کہ یہ تو ہدایت ان کو دیتا ہے جن کے دل میں کوئی نیکی ہو یا نیکی کی طرف جانے کا رجحان ہو۔شروع میں فرما دیا کہ ھدی للمتقين (البقرة: 3) تو ہر ایک کا جو پہلے مسلمان نہیں بھی ہوا تقویٰ کا ایک معیار ہے کہ چیزوں کو ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو کے دیکھے۔یہ بھی ایک تقویٰ کی قسم ہے۔تو یہ تو متقیوں کے لئے جوصاف ذہن رکھتے ہیں ان کے لئے ہدایت ہے۔تو جس نے دیکھنا ہی تعصب کی نظر سے ہے اس کے لئے تو قرآن نے خود ہی کہہ دیا ہے کہ ان کو کبھی ہدایت نہیں دے گا۔بلکہ فرمایا کہ یہ متعصب لوگ جو اسلام کی دشمنی کی باتیں کرتے ہیں یہ تو ظالم لوگ ہیں اور قرآن کریم میں ان کے لئے سوائے گھاٹے کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے ﴿وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (بنی اسرائیل: 83) کہ وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔پس اب یہ احمدی کا فرض ہے کہ اس زمانے میں قرآن کریم کی تلاوت کو بھی اور اس پر عمل کر کے بھی اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں تاکہ ہر احمدی کے عمل سے ان ظالموں کے منہ خود بخود بند ہوتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” قرآن شریف پر تدبر کرو۔اس میں سب کچھ ہے۔نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہے اور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں وغیرہ۔بخوبی سمجھ لو کہ یہ وہ مذہب پیش کرتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے برکات اور ثمرات تازہ بہ تازہ ملتے ہیں۔انجیل میں مذہب کو کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا۔اس کی تعلیم اُس زمانے کے حسب حال ہو تو ہولیکن وہ ہمیشہ اور ہر حالت کے موافق ہرگز نہیں۔یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتایا ہے۔اور تمام قومی کی تربیت فرمائی ہے۔اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو۔اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو“۔(ملفوظات جلد 5 صفحه 102 جدید ایڈیشن)