خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 629
خطبات مسرور جلد سوم 629 خطبه جمعه 21 را کتوبر 2005ء عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔ہم ہمیشہ قرآن کے ہر حکم اور ہر لفظ کو عزت دینے والے ہوں۔اور عزت اس وقت ہو گی جب ہم اس پر عمل کر رہے ہوں گے۔اور جب ہم اس طرح کر رہے ہوں گے تو قرآن کریم ہمیں ہر پریشانی سے نجات دلانے والا اور ہمارے لئے رحمت کی چھتری ہوگا۔جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (بنی اسرائیل: 83) اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا اور کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔پس ہمیں چاہئے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے تمام اوامر ونواہی کو سامنے رکھیں اور اس تعلیم کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں۔اس کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تبھی ہم روحانی اور جسمانی شفا پانے والے بھی ہوں گے اور قرآن کریم ہمارے لئے رحمت کا باعث بھی ہوگا۔اور عمل نہ کرنے والے تو ظالم ہیں اور ان کے لئے سوائے گھاٹے کے اور کچھ ہے ہی نہیں ، جیسا کہ قرآن شریف نے فرمایا۔ان کی تو آنکھ ہی اندھی ہے۔ان کو تو قرآن کریم کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اسلام کے خلاف بہت ساری کتابیں لکھی جاتی ہیں۔بعض گو کہ مسلمان نہیں ہیں ، عیسائی ہیں، لیکن بعض دفعہ حق میں بھی باتیں لکھ دیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھنے والی ہیں کیرن آرمسٹرانگ۔انہوں نے اپنی کتاب میں کسی کا حوالہ Quote کیا ہے۔کوئی لکھنے والا ہے فیٹر ویلڈن، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اندھوں کی نشانی بتا دی ہے۔اس نے قرآن کریم سے کیا اخذ کیا ؟ سنیں ، وہ کہتا ہے که قرآن کریم میں کوئی بھی قابل توجہ اور سوچنے والی بات نہیں ہے۔پھر کہتا ہے کہ یہ کوئی ایسا کلام نہیں ہے کہ جس پر معاشرہ عقل و شعور سے بنیاد کر سکے۔مفہوم تقریباً یہی بنتا ہے اس کی باتوں کا۔پھر کہتا ہے کہ یہ صرف طاقت اور ہتھیار مہیا کرتا ہے ان لوگوں کو جو ہر اس تصور کو دباتے ہیں جو ان کے خیال سے مطابقت رکھنے والا نہ ہو۔اور پھر آگے اسی طرح لکھتا ہے کہ اس کا نفس مضمون محدود ہے اور سوچوں کو محدود کرنے والا ہے۔تو قرآن نے تو پہلے ہی دعویٰ کر دیا ہے ایسے لوگوں کے