خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 620 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 620

خطبات مسرور جلد سوم 620 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء پھر ایک اور دعا آنحضرت سے مروی ہے کہ: اعُوْذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ الَّذِي لَيْسَ شَيْى ءُ أَعْظَمُ مِنْهُ وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التّامَّاتِ الَّتِى لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاحِرٌ وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ » 66 (موطاء امام مالک ، کتاب الجامع باب مايُؤمَرُ به مِنَ التَّعَوِّذ) کہ میں اپنے عظیم شان والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ جس سے عظیم تر کوئی شے نہیں اور ان کامل اور مکمل کلمات کی پناہ میں بھی کہ جن سے کوئی نیک و بد تجاوز نہیں کرسکتا۔اور اللہ کی تمام نیک صفات جو مجھے معلوم ہیں یا نہیں معلوم ان سب کی پناہ طلب کرتا ہوں اس مخلوق کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا اور پھیلایا۔پس یہ سنت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قائم فرما گئے اور یہ زمانہ ایسا ہے کہ ہر احمدی کو سب سے بڑھ کر یہ دعائیں کرتے رہنا چاہئے اور بہت زیادہ استغفار کرنی چاہئے۔جب 100 سال پہلے 1905 ء میں کانگڑہ کا زلزلہ آیا تو قادیان میں بھی اس کے جھٹکے لگے تھے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ آپ سب گھر والوں اور دوستوں کو لے کر بڑی دیر تک نفلوں اور دعاؤں سجدوں اور رکوع میں پڑے رہے۔اور روایت میں آتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی سے سخت لرزاں وتر ساں تھے۔بڑا سخت خوف تھا۔خشیت طاری تھی۔اور پھر کہتے ہیں اس وقت بھی تھوڑے تھوڑے وقفے سے زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے رہتے تھے۔اس لئے آپ کا سب خدام کو لے کر تین منزلہ عمارت میں رہنا بہتر نہیں تھا ، قادیان میں جو آپ کا باغ تھا وہاں چلے گئے اور خیمے لگا کر وہاں رہے تھے۔تو اس بات کو بھی ہر ایک احمدی کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ہر آفت جو آتی ہے اس سے بہت زیادہ اپنے آپ کے محفوظ رہنے کے لئے بھی اور قوم کے محفوظ رہنے کے لئے بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔اور ان دعاؤں میں، ان سجدوں میں یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی اپنی ان دعاؤں میں اور ان سجدوں میں قوم کے لئے بھی دعائیں کر رہے ہوں گے، بلکہ قوم کے لئے ہی کر رہے