خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 619
خطبات مسرور جلد سوم 619 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء کہتے ہیں کہ اس اُسوہ کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہئے اور اس کی پناہ میں آنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا کا یوں ذکر کیا ہے: حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بادل گرج اور کڑک، سنتے تو یہ دعا کرتے کہ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكُنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ (ترمذى كتاب الدعوات - باب ما يقول اذا سمع الرعد) کہ اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب سے قتل نہ کرنا۔اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کرنا اور اس سے پہلے ہمیں بچا لینا۔پھر ایک دعا کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے: حضرت عائشہ کہتی ہیں جب کبھی آندھی چلتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے کہ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلْكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيْهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَاَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَافِيْهَا وَشَرِّمَا أُرْسِلَتْ بِهِ (مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء باب التعوذ عند رؤية الريح والغيم) اے اللہ ! میں اس آندھی کی تجھ سے ظاہری اور باطنی خیر و بھلائی چاہتا ہوں اور وہ خیر بھی چاہتا ہوں جس کے ساتھ یہ ھیجی گئی ہے۔اور میں اس کے ظاہری و باطنی شر سے اور اس شر سے بھی پناہ مانگتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔پھر آپ کی دعا ہے کہ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ (مسلم کتاب الرقاق، باب اكثر اهل الجنة الفقراء) کہ اے اللہ ! میں تیری نعمت کے زائل ہو جانے سے، تیری عافیت کے ہٹ جانے سے، تیری اچانک سزا سے اور ان سب باتوں سے پناہ مانگتا ہوں جن سے تو ناراض ہو۔