خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 611 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 611

خطبات مسرور جلد سوم 611 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء بھی اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔ضمنا میں یہ بھی ذکر کر دوں کہ رمضان سے کچھ عرصہ پہلے ہی ( شاید ایک ڈیڑھ مہینہ پہلے ) کوئٹہ میں بھی ایک شہادت ہوئی تھی۔وقتاً فوقتاً ا گا ڑ گا وہاں تو ہوتی رہتی ہیں۔یہ بڑا ایک حادثہ ہوا تھا رمضان سے پہلے۔ان کی اولا دکو بھی سب لوگ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔سب جماعت کا فرض بنتا ہے کہ شہداء اور ان کی اولادوں کو دعاؤں میں یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ سب کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے اور آئندہ جماعت کو ہر شر سے محفوظ رکھے۔اب میں کچھ ذکر گزشتہ دنوں پاکستان میں جو زلزلہ آیا ہے، اس کا کرنا چاہتا ہوں۔یہ زلزلہ جیسا کہ میں نے کہا کہ شمالی پاکستان کے کچھ حصوں اور کشمیر کے علاقے میں بہت زیادہ تباہی پھیلا کر گیا ہے۔جماعت احمدیہ کا ہر فرد بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان بھی اس آسمانی آفت پر دل میں در داور دکھ محسوس کر رہا ہے۔اور ہم پاکستانی احمدی تو اپنے بھائیوں کی تکلیف اور دُکھ دیکھ کر انتہائی دکھ اور کرب میں ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمارے ہم وطنوں کی تکلیفوں کو کم کرے اور انہیں آفات سے بچائے۔میں نے صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان اور صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کو جو افسوس کا خط لکھا تھا اس میں بھی انہیں یقین دلایا تھا کہ جماعت احمد یہ ہمیشہ کی طرح ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔وطن کی محبت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ہر پاکستانی احمدی اس کڑے وقت میں اپنے بھائیوں کی مدد کرے۔عملی طور پر بھی اور دعاؤں سے بھی۔اپنی تکلیفوں کو بھول جائیں اور دوسرے کی تکلیف کا خیال کریں۔جماعت احمدیہ نے پہلے دن سے ہی جب سے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے ہمیشہ پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کے لئے قربانیاں دی ہیں اس لئے یہ تو کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک احمدی کا کوئی مسلمان بھائی تکلیف میں ہو یا ملک پر کوئی مشکل ہو اور ایک احمدی پاکستانی شہری دُور کھڑ ا صرف نظارہ کرے اور اس تکلیف کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔پس جماعت احمدیہ نے اس ملک کے بنانے میں بھی حصہ لیا ہے اور انشاء اللہ اس کی تعمیر و ترقی میں بھی ہمیشہ کی طرح حصہ لیتی رہے گی۔کیونکہ آج ہمیں وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے“ کا سب سے زیادہ ادراک ہے۔آج احمدی ہے جو جانتا ہے کہ وطن کی محبت کیا