خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 610
خطبات مسر در جلد سوم 610 خطبہ جمعہ 14 اکتوبر 2005ء پس ہمارا کام ہے کہ صبر کے ساتھ دعاؤں میں لگے رہیں۔اللہ کا خوف ہمارے سب خوفوں پر غالب ہو۔اور اس کی رضا کا حصول ہماری زندگی کا مقصد ہو۔بعض لوگ جلد بازی میں مخالف پر بعض دفعہ طعن و تشنیع کر جاتے ہیں یا دوسروں سے طعن و تشنیع کی باتیں کر جاتے ہیں۔ایک احمدی کو یہ زیب نہیں دیتا۔کسی نے مجھے کسی کی شکایت بھی لکھی تھی۔ہم نے اپنا جو ایک امتیاز قائم رکھا ہوا ہے اسے قائم رکھنا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : کیا وہ شخص جو بچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور بیچ بیچ تمہارے لئے مرنے کو بھی طیار ہوتا ہے اور تمہارے منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے اور تمہارے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے۔کیا تم اس سے پیار نہیں کرتے ؟ اور کیا تم اس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے۔پس جب کہ تم انسان ہوکر پیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اس کا وفادار دوست کون ہے اور کون غذار اور دنیا کو مقدم رکھنے والا ہے۔سو تم اگر ایسے وفادار ہو جاؤ گے تو تم میں اور تمہارے غیروں میں خدا کا ہاتھ ایک فرق قائم کر کے دکھلائے گا“۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 68) پھر آپ نے فرمایا کہ: یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا، اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے۔تا کہ خدا تمہاری آزمائش کرے۔(رساله الوصيت، روحانی خزائن جلد 20صفحه 309) تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود کا یہ درخت بڑھا اور بڑھ رہا ہے۔اور ایک جگہ آپ نے فرمایا چھوٹی چھوٹی شاخ تراشیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ مزید بہتری پیدا ہو۔پس ہمارا کام اس ایمان پر قائم رہنا ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔اس دنیا میں ہمیشہ سب شہیدوں کی اولادوں کو