خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 577
خطبات مسرور جلد سوم 577 خطبہ جمعہ 23 ستمبر 2005ء میں بھی اس کی ہلاکت کے سامان ہورہے ہوتے ہیں۔ایک سخی اور مالی قربانی کرنے والے کے جنت میں جانے اور بخیل کے دوزخ کے قریب ہونے کے بارے میں ایک روایت میں یوں ذکر ملتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھی اللہ کے قریب ہوتا ہے، لوگوں سے قریب ہوتا ہے اور جنت کے قریب ہوتا ہے اور دوزخ سے دور ہوتا ہے۔اس کے برعکس بخیل اللہ سے دور ہوتا ہے، لوگوں سے دور ہوتا ہے، جنت سے دور ہوتا ہے لیکن دوزخ کے قریب ہوتا ہے۔فرمایا: ان پڑھ ینی بخیل عابد سے اللہ کی راہ میں زیادہ محبوب ہے۔۔(الرسالة القشيرية ، باب الجود والسخاء) آدمی بڑی عبادتیں کرنے والا بھی ہے لیکن کنجوس ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں اتنا محبوب نہیں جتنا ایک سخی ہے چاہے کم عبادتیں بھی کر رہا ہو۔عبادتیں تو کم نہیں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ فیق دیتا ہے کہ پھر عبادتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ دنیاوی لحاظ سے بھی کسی طرح نوازتا ہے اور مال میں برکت دیتا ہے، کس طرح قرضہ حسنہ کو لوٹا تا ہے۔اس بارے میں ایک روایت ہے۔کئی بارسنی ہوگی۔لیکن جب مالی قربانیوں کا وقت آتا ہے اس وقت اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کا یوں ذکر فرمایا ہے کہ ایک آدمی جنگل میں جار ہا تھا۔آسمان پر بادل تھے۔اتنے میں اس نے بادلوں میں سے آواز سنی کہ اے بادل ! فلاں نیک انسان کے باغ کو سیراب کر دے۔وہ بادل اس طرف چلا گیا۔وہ آدمی جس نے یہ آواز سنی تھی وہ بادل کے اس ٹکڑے کے پیچھے پیچھے گیا تو دیکھا کہ وہ ایک پتھریلی زمین پہ برس رہا ہے۔ایک چٹان ہے، پہاڑی سی ہے وہاں بادل برس رہا ہے اور پھر ایک نالے کی صورت میں وہ پانی اکٹھا ہو کے بہنے لگا۔وہ شخص بھی نالے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تو دیکھا کہ وہ نالہ ایک باغ میں داخل ہوا اور باغ کا مالک اس پانی کو بڑا سنبھال کے، طریقے سے، جہاں جہاں باغ میں پانی کی ضرورت تھی وہاں لگارہا تھا۔تو اس آدمی نے جس نے یہ آواز سنی تھی باغ کے مالک سے پوچھا کہ اے اللہ کے بندے! تمہارا نام کیا ہے۔اس نے وہی