خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 504
خطبات مسرور جلد سوم جاتے ہیں۔504 خطبه جمعه 19 اگست 2005 ء پھر جھوٹ سے ناپسندیدگی کے بارے میں یوں نصیحت فرمائی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم عیب یا اللہ نے فرمایا کہ جو شخص جھوٹ اور اس کے مطابق عمل اور جہالت کو نہیں چھوڑتا پس اللہ کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔(بخارى كتاب الادب - باب قول الله تعالى واجتنبوا قول الزور ) یعنی روزے رکھ کر اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اللہ تعالیٰ کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔اصل مقصد تو نیک تبدیلی پیدا کرنا ہے۔اگر یہ نہیں کر رہے تو جس اللہ کی خاطر روزے رکھے جا رہے ہیں اس نے تو جھوٹ سے منع کیا ہے۔اپنے عمل سے تو تم جھوٹے خدا، کے سامنے کھڑے ہو رہے ہو۔پس اللہ کی عبادت کرنا اور پھر جھوٹ بھی بولنا یہ دونوں چیزیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں اور اللہ تعالیٰ کو انتہائی نا پسند ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص کو آپ نے فرمایا کہ اگر تم تمام برائیاں نہیں چھوڑ سکتے تو جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔چنانچہ اس ایک برائی کے چھوڑنے سے آہستہ آہستہ اس کی تمام برائیاں دور ہو گئیں۔جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ جھوٹ شرک کی طرف لے جانے والی چیز ہے۔اس لئے آپ کو جھوٹ سے شدید نفرت تھی۔یہ ایسی برائی ہے جو انسان کو تباہی کے گڑھے میں لے جاتی ہے۔آپ اپنی امت کو اس سے بچنے کے لئے شدت سے نصیحت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الله عليه وسلم نے تین بار فرمایا کیا میں تمہیں گناہ کبیرہ کے متعلق نہ بتاؤں۔ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا، گناہ کبیرہ یہ ہیں: اللہ کا شرک ، والدین کی نافرمانی ، آپ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے، اٹھ بیٹھے اور فرمایا اور غور سے سنو کہ جھوٹ اور جھوٹی گواہی ، غور سے سنو جھوٹ اور جھوٹی گواہی۔راوی کہتے ہیں کہ آپ یہ فرماتے چلے گئے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی کہ کاش حضور خاموش ہو جائیں۔(بخاری – کتاب الادب -باب عقوق الوالدين من الكبائر) تو جس شدت سے آپ نے اس سے بچنے کی نصیحت فرمائی ہے اس شدت سے ہمیں بھی