خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 466 of 844

خطبات مسرور (جلد 3۔ 2005ء) — Page 466

خطبات مسرور جلد سوم 466 خطبه جمعه 5 راگست 2005 ء اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور محض اور محض اس کے فضل کی وجہ سے گزشتہ دنوں اتوار کو۔U۔K کا جلسہ سالانہ خیریت سے ختم ہوا۔اور باوجود اس کے کہ نئی جگہ تھی کھلا میدان تھا، کوئی سہولت میسر نہ تھی، کیونکہ اسلام آباد میں جب جلسہ ہوا کرتا تھا تو کچھ نہ کچھ شیڈ (Shed) اور عمارتیں موجود ہیں اور کچھ حد تک ضروریات پورا کرنے کے لئے وہاں ان عمارتوں اور شیڈوں کو استعمال کیا جاتا تھا لیکن اس نئی جگہ پر جہاں جلسہ کیا گیا تمام انتظامات عارضی تھے۔کھانا پکانے کا انتظام اسلام آباد میں تھا۔کھلانے کا انتظام نئی جگہ پر تھا اور دس بارہ میل کا فاصلہ تھا۔کھانا لے کر جانا ، پھر چھوٹی سڑکیں ،ٹریفک کی زیادتی ، وقت لگتا تھا۔پھر بعض نئے کام بھی کرنے پڑے۔اکثر کارکنان اس لحاظ سے ناتجربہ کار تھے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کی دعاؤں کو سنا اور سب کی پردہ پوشی فرمائی اور یہ جلسہ سالانہ اپنی تمام برکات بکھیر تا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا۔اس پر ہم خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔اور یہ شکر ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے تو یہ ایک مومن کو مزید شکر میں بڑھاتی ہے اور اس سے پھر اللہ تعالیٰ کی راہوں کے مزید دروازے کھلتے ہیں۔غرض کہ یہ مضمون ایسا ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔دنیا کی ظاہری چیزوں کے ساتھ اس کی مثال نہیں دی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو محدود کیا ہی نہیں جاسکتا۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ شکر کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس کے دروازے مزید کھلتے چلے جاتے ہیں۔پس انسان کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہوئے اس کا شکر گزار بندہ بنتا چلا جائے کیونکہ یہ انسان ہی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو تو انسان کی کوئی ضرورت نہیں۔اس آیت میں بھی جو میں نے تلاوت کی ہے یہی مضمون بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تو غنی ہے، بندے کو اس کی ضرورت ہے اور اس ذات کے بغیر بندے کا گزارہ ہو ہی نہیں سکتا، کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔اور اللہ تعالیٰ کو تو بندے کی کوئی ضرورت نہیں۔وہ تو رب العالمین ہے۔وہ تو سب جہان کا رب ہے، سب کا پالنے والا ہے۔پس اگر محتاج ہے تو بندہ خدا کا محتاج ہے۔خدا تعالیٰ بندوں کی تعریفوں کا محتاج ہے نہ بندوں کے شکر گزار ہونے کا محتاج۔ہاں وہ